سوانح حضرت عثمان غنی ؓ

by Other Authors

Page 19 of 24

سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 19

35 34 بحری جنگوں کا موقع نہیں ملا تھا۔حضرت عثمان کے عہد خلافت میں فتوحات کا سلسلہ 35 ہجری تک جاری رہا اور اسلامی سلطنت بہت وسیع ہوگئی۔دعوت الی اللہ اور تعلیم و تربیت فتوحات کے نتیجہ میں اسلامی ریاست میں غیر معمولی وسعت پیدا ہوگئی تھی۔حضرت عثمان نے پہلے خلفاء کی طرح دعوت الی اللہ کے کاموں میں اور اسلام میں داخل ہونے والے نئے لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لیے کئی انتظامات کیے۔ان کاموں میں نئی مساجد کی تعمیر اور درس و تدریس کا کام بطور خاص شامل ہے۔جو منصوبے اشاعت دین حق اور مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے حضرت عمر نے جاری فرمائے تھے آپ نے ان کو آگے بڑھایا۔مساجد کی تعمیر کے بعد ان میں ائمہ اور موذن مقرر فرمائے کیونکہ تعلیم و تربیت کا بہترین ذریعہ مسجد کو ہی سمجھا جاتا تھا جہاں باجماعت نمازوں کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کا سلسلہ جاری تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ مفتوحہ علاقوں میں آباد ہو گئے۔صوبوں کے اکثر حاکم صحابہ اور ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے اور قرآن وحدیث کے درس کا وہی اہتمام کرتے تھے۔چنانچہ خادم رسول حضرت انس بصرہ میں آباد تھے۔وہ قرآن اور حدیث کا درس دیا کرتے تھے جنہیں بڑی کثرت سے لوگ سنتے تھے اور تربیت حاصل کرتے تھے۔حضرت عثمان نے سارے عالم اسلام میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی کی طرف خاص توجہ دلائی اور نماز جمعہ سے پہلے دوسری اذان آپ کے زمانہ میں شروع ہوئی تا کہ لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا جا سکے کہ خطبہ شروع ہو چکا ہے۔حج کے موقع پر تمام صوبوں سے لوگ بڑی کثرت سے شامل ہوتے تھے۔حضرت عثمان کا خطبہ سنتے تھے اور آپ سے شرف ملاقات حاصل کرتے تھے۔مدینہ اور مسجد نبوی تعلیم و تربیت کے سب سے بڑے مراکز تھے جہاں دین سکھانے کا باقاعدہ انتظام تھا۔غرض یہ کہ ہر صوبے میں دعوت الی اللہ اور تعلیم و تربیت کا کام جاری رہا۔تمام مذاہب کو آزادی حاصل تھی اور انہیں اپنے طریقے کے مطابق عبادت کی بھی مکمل آزادی حاصل تھی۔اشاعت قرآن قرآن کریم جب پورا نازل ہو چکا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق اس کی ترتیب فرمائی۔حضرت ابوبکر خلیفہ ہوئے تو انہوں نے قرآن کریم کی وحی کو جو مختلف کا تہوں نے لکھی تھی اور مختلف رسم الحظ میں تھی اکٹھا کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی ترتیب کے مطابق کر کے محفوظ کر دیا۔پیارے بچو! عرب قبائل کے مختلف لہجے تھے جس میں ایک ہی لفظ کو مختلف طریق سے ادا کیا جاتا ہے۔شروع میں قرآن شریف نازل ہوا تو ان مختلف لہجوں میں اسے پڑھنے کی اجازت تھی۔حضرت عثمان کے زمانہ میں جب قرآن شریف کے نسخے ساری دنیا میں بھجوانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو حضرت عثمان نے اختلافات کے اندیشہ سے یہ فیصلہ فرمایا کہ ان نسخوں کو ایک لیجے پر لکھا جائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کا لہجہ تھا۔چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور ایسے نسخے تیار کروا کر عالم اسلام میں بھجوا دیئے۔آپ کی یہ خدمت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔مسجد نبوی کا پختہ کروانا ابھی تک مسجد نبوی کا فرش کچا تھا اور چھت کھجور کی شاخوں اور لکڑی سے بنی ہوئی تھی۔