حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ؓ — Page 7
11 10 خود اپنے لئے کچھ کرو اور انسان ابتلاء میں پڑ جاتا ہے لیکن اگر خدا خود چھڑا دیتا ہے تو پھر بچو! جواللہ تعالیٰ کی خاطر تکالیف اٹھاتا ہے اللہ تعالی خود اس کا کفیل بن جاتا ہے جیسا وہ خود کفیل ہوتا ہے اور اس کے لئے کوئی صورت نکال دیتا ہے پس آپ استعفی مت دیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اس کے گزارے کے سامان کر دیتا ہے۔جب وہ نکال دیں گے تو اللہ تعالیٰ کوئی اور انتظام کر دے گا۔چنانچہ جب بیعت کرنے کے نتیجہ میں آپ کو برخاست کر دیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے پشاور میں بیعت کا اعلان ( رفقائے احمد جلد نمبر حصہ اول صفحہ 57-56) آپ کی ملازمت کے سامان کر دیئے اور آپ مشن کالج پشاور میں پڑھانے لگے۔قادیان آمد اوائل مارچ 1887ء کی بات ہے کہ ایک دن حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ظہر حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب قادیان مستقل ہجرت کر آنے سے قبل تین بار کی نماز پڑھا کر ابھی بیٹھے دعائیں ہی پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے حضرت مسیح موعود قادیان آئے۔پہلی بار 1898 ء کی موسم گرما کی تعطیلات میں قادیان آئے ( رفقائے احمد علیہ السلام کا مندرجہ بالا خط آپ کے ہاتھ پر رکھ دیا۔جب آپ نے اسے کھول کر جلد 5 صفحہ 188) اور مہمان خانہ میں قیام کیا۔اور جب بیت مبارک میں آپ نماز کے پڑھنا شروع کیا تو اس کے پہلے الفاظ یہ تھے کہ آپ فوراً بیعت کا اعلان کر دیں۔آپ لئے تشریف لائے تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے مصافحہ کا شرف ملا۔حضور نے اتنا حصہ پڑھ کر اگلا حصہ پڑھے بغیر اعلان کر دیا کہ میری بیعت کی قبولیت کا خط کے دریافت کرنے پر آپ نے بتایا کہ آپ پشاور سے آئے ہیں۔پھر حضور نے قادیان سے آ گیا ہے اور آج سے میں احمدی ہو گیا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ تم لوگوں دریافت فرمایا آپ مولوی سرورشاہ ہیں تو آپ نے تصدیق کی۔نے میری امامت میں جتنی نمازیں پڑھی ہیں ان میں سے زیادہ قابل قدر اور لائق قبولیت وہ ہیں جو میرے احمدی ہونے کے بعد آپ نے میرے پیچھے پڑھی ہیں لیکن اگر تعصب کی وجہ سے کسی کو نماز دہرانے کا شوق ہو تو وہ اپنی نماز دہراسکتا ہے۔بیعت کے نتیجہ میں مخالفت ( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ اول صفحہ 62) اس ملاقات سے قبل آپ کا غائبانہ تعارف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ایک اشتہار کے ذریعہ ہو چکا تھا جو پیر مہر علی صاحب گولڑوی کی طرف سے حضرت مسیح ( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ اول صفحہ 57) موعود علیہ السلام پر کئے گئے سوالات کے جوابات پر مشتمل تھا۔یہ جوابات حضرت شاہ صاحب نے ایک اشتہار کی صورت میں شائع کروائے تھے اور ایک اشتہار آپ نے ادھر آپ نے بیعت کا اعلان کیا اُدھر ایبٹ آبا دشہر میں ایک شور برپا ہوگیا اور اس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں قادیان بھجوایا تھا۔ان جوابات کو حضور نے پسند فرمایا تھا جس کا اظہار آپ نے حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب نوراللہ مرقدہ الجمن نے جس کے آپ ملازم تھے آپ کو برخاست کرنے کا فیصلہ کر لیا۔