حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ؓ

by Other Authors

Page 11 of 18

حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ؓ — Page 11

19 18 کے لقب سے نوازا۔اس مباحثہ کا تفصیلی ذکر حضور نے اپنی ایک کتاب ”اعجاز احمدی‘ میں نورالدین صاحب بھیروی کی عدم موجودگی میں آپ بیت مبارک قادیان میں درس قرآن دیتے رہے اور پھر حضرت مسیح موعود کے عہد میں بھی قرآن مجید کی تفسیر لکھنے کا۔66 فرمایا ہے۔حضرت سید محمد سرور شاہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک عہد میں نمازیں موقع ملا۔یہ تفسیر آپ ہی کی زیر ادارت جولائی 1906ء سے شروع ہونے والے رسالے اور جمعہ پڑھانے کا شرف ملتا رہا۔اس تنظیم سعادت کا ذکر آپ یوں کرتے ہیں: تعلیم الاسلام میں چھپتی رہی۔اس رسالہ کے بند ہو جانے کے بعد یہ تفسیر ریویو آف حضور نے مجھے ( بیت) اقصیٰ کا امام مقرر کیا تھا۔حضرت مولوی عبدالکریم رپیجر اُردو میں شائع ہونے لگی۔پی تفسیر تفسیر سروری" کے نام سے مشہور ہے۔صاحب کی وفات کے بعد حضور نے مجھے ( بیت ) مبارک میں نمازیں پڑھنے کا ارشاد مارچ 1908ء سے ایک سہ ماہی رسالہ ”تفسیر القرآن“ آپ ہی کی نگرانی میں آپ فرمایا۔اس لئے کہ کبھی مجھے بھی ( بیت ) مبارک میں نماز پڑھانی ہوتی تھی۔چنانچہ میں کی تفسیر کی خاطر جاری کیا گیا جس میں تمبر 1912 تک تغیر شائع ہوتی رہی۔نے بیسیوں جمعے اور نمازیں ( بیت ) مبارک میں پڑھا ئیں کہ جن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مقتدی ہوتے تھے۔“ رسالہ تخمیذ الاذہان جو 1906ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد (خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ ) نے جاری فرمایا تھا اس میں آپ کے بہت قابلِ قدر مضامین شائع ( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ دوم صفحہ 67) ہوتے رہے۔جنہیں غیر از جماعت احباب بھی سراہتے تھے اور پسندیدگی کی نظر سے آپ کے خطبہ جمعہ اس قدر بلیغ ہوا کرتے تھے کہ حضور بھی تعریف فرمایا کرتے دیکھتے تھے۔خصوصی طور پر مسائل شرعیہ کے عنوان سے چھپنے والے مضامین نے تھے چنانچہ حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب ایم۔اے تحریر فرماتے ہیں: ” مجھے ان کا ایک خاص واقعہ خوب یاد ہے۔ایک دفعہ انہوں نے (بیت) مبارک قادیان میں جمعہ کی نماز پڑھائی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اس نماز میں شامل تھے اور حضور نے گھر میں آکر حضرت (اماں جان) سے فرمایا کہ آج مولوی سرور شاہ صاحب نے بہت اچھا خطبہ دیا۔یہ بات میرے کانوں نے سنی اور مجھے اب تک یاد ہے۔“ ( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ دوم صفحہ 195) پذیرائی حاصل کی۔( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ اول صفحہ 113-112) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں آپ کو اس وقت مدرسہ تعلیم الاسلام میں قائمقام استاد مقرر کیا گیا جب مولوی مبارک علی صاحب دسمبر 1901ء میں ایک ماہ کی رخصت پر سیالکوٹ چلے گئے۔آپ کے علمی مقام کو دیکھتے ہوئے 1902ء میں آپ کا با قاعدہ تقر راستاد مدرسہ تعلیم الاسلام کے طور پر کر دیا گیا۔( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ دوم صفحہ 77) 1909ء میں جب مدرسہ احمدیہ کا آغاز ہوا تو اس کے پہلے ہیڈ ماسٹر حضرت مولانا حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب کو یہ بھی اعزاز حاصل رہا کہ حضرت حکیم مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب مقرر ہوئے۔پھر جب 1912ء میں اس درسگاہ کے طریقہ تعلیم