حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ؓ

by Other Authors

Page 6 of 18

حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ؓ — Page 6

9 8 ( رفقائے احمد جلد نمبر حصہ اول صفحہ 56) مشغول رہوں۔یہی خیال غالب آیا اور قرآن مجید بند کر کے کھڑے ہو گئے اور آپ علاقے کے لوگ ابھی تک احمدیت سے بکلی نا آشنا ہیں اور آپ نے بیعت کر لی تو یہ کے سلام کرنے سے قبل حضور نے السلام علیکم کہا اور آپ نے وعلیکم السلام کہا۔حضور نے لوگ آپ سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے بلکہ مخالفت پر آمادہ ہو جائیں گے لیکن اگر اسی ہاتھ بڑھایا اور آپ نے مصافحہ کیا۔حضور نے آپ کا ہاتھ پکڑے ہوئے کہا کہ اب تو حالت میں رہ کر آپ انہیں سمجھاتے رہیں گے تو سب نہیں تو اکثر آپ کے ساتھ شامل وقت نزدیک آ گیا ہے اب تو تم میری مخالفت چھوڑ دو۔آپ کی طبیعت میں تر در پیدا ہو جائیں گے۔ہوا کہ اگر میں کہتا ہوں کہ میں خلاف نہیں کرتا تو یہی جھوٹ ہوگا اور اگر میں کہتا ہوں کہ مگر حضرت شاہ صاحب کی طبیعت اس بات کو پسند نہ کرتی تھی اور تاخیر برداشت خلاف کرتا ہوں تو شرافت کے خلاف ہے کہ ایک معز شخص کے منہ پر ہی ایسی بات سے باہر تھی۔آخر آپ نے مناسب سمجھا کہ اس بارہ میں حضور سے مشورہ لیں چنانچہ کیوں۔فوراً خیال آیا کہ گزشتہ کو جانے دو اور یہ جواب دو کہ میں آئندہ خلاف نہیں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں تحریر کیا کہ یا مریعنی ہے کہ میرے اعلان احمدیت پر یہ لوگ میرے مخالف ہو جائیں گے اور اس ملازمت سے برخاست کروں گا۔اور آپ نے یہی جواب دیا۔رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ اول صفحہ 53) کر دیں گے۔برخواستگی مجھے ناپسند ہے۔میں چاہتا ہوں کہ میں پہلے استعفیٰ دوں پھر اس خواب کی ملاقات کا آپ پر یہ اثر ہوا کہ وہی باتیں جن میں پہلے آپ کا خیال اعلان کروں۔احمدی احباب مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ میں دو تین ماہ تک اسی حالت میں مخالفت کی طرف جایا کرتا تھا، اب آپ کو ایسا لگتا جیسے کوئی پکڑ کر حضور علیہ السلام کی رہوں اور اس کے بعد بیعت کروں لیکن میں چاہتا ہوں کہ حق اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کھول باتوں کی طرف لے جاتا ہے اور شکوک وشبہات کا ازالہ ہونے لگا۔دیا ہے اور میں بیعت کرلوں۔پھر وفات مسیح کے متعلق آیات پر غور کرنے سے اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس بارے میں اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا آپ کو جواب ملا کہ احمدی احباب کا جو حضور بیان کرتے ہیں وہی حق ہے۔اس کے علاوہ آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود مذکورہ مشورہ صیح نہیں کیونکہ اپنے نفس کا حق اپنے اوپر دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے اس علیہ السلام کی بعض کتب خصوصاً ” آئینہ کمالات اسلام “ مطالعہ کی ہوئی تھی جس کی وجہ لئے اپنی اصلاح دوسروں کی اصلاح سے مقدم ہوتی ہے پس آپ فوراً بیعت کا اعلان سے آپ احمدیت کی طرف مائل ہوئے۔کر دیں اور استعالی سے متعلق خیال صحیح نہیں۔شریعت کا حکم ہے الْإِقَامَةُ فِي مَا أَقَامَ چنانچہ آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بیعت کا خط الله ( یعنی جب تک اللہ تعالیٰ کسی جگہ پر قائم رکھے اس وقت تک انسان کو وہیں قائم لکھنے کا تہیہ کر لیا اور اس کا اظہار آپ نے ایبٹ آباد کے ایک احمدی دوست با بو غلام محی رہنا چاہئے۔ناقل )۔اور اگر کوئی اس کے خلاف کرتا اور اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے الدین سے کیا۔انہوں نے یہ مشورہ دیا کہ سر دست آپ بیعت نہ کریں کیونکہ اس گزارہ کو خود چھوڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو میں نے دیا تھاوہ تم نے چھوڑ دیا اب تم