حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ؓ — Page 5
7 6 طالب علمی کے دوران جب اطلاع ملی کہ حضرت حکیم مولا نا نور الدین صاحب ایک آپ کے دل میں چونکہ احمدیت کے بارے میں جانے کی جستجو تھی اس لئے آپ دعا جلسہ میں تقریر کے سلسلہ میں لاہور تشریف لائے ہوئے ہیں تو آپ ان کی تقریر سننے سے کام لیتے رہے۔1892ء میں جب حضور دیو بند جاتے ہوئے لدھیانہ ٹھہرے تو کے لئے گئے۔یہ تقریر چار گھنٹے تک جاری رہی۔تقریر کے بعد حضرت حکیم مولانا اس دوران آپ کو حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہو کر تین گھنٹے تک صحبت سے نورالدین صاحب نے لوگوں سے مصافحہ کیا۔مصافحہ کرتے ہوئے جب حضرت سید مستفید ہونے کی سعادت ملی۔سرور شاہ صاحب تک پہنچے تو آپ نے حضرت شاہ صاحب کو بغل گیر کرتے ہوئے زمین سے اٹھا لیا اور اپنے واقفوں سے کہا کہ یہ میرے دوست بلکہ عاشق کا بیٹا ہے۔اس وقت بیعت معلوم ہوا کہ حضرت مولانا نورالدین صاحب آپ کو جانتے ہیں۔احمدیت سے تعارف ( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ اول صفحہ 48) بچھا جب کوئی شخص بچے دل سے خدا تعالی کے حضور جھکتا ہوا سچائی کا طلب گار ہوتا رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ اول صفحہ 42 ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے بندے کو بھی مایوس نہیں کرتا۔بلکہ مختلف ذرائع سے اس کی سچائی کی طرف راہنمائی کر دیتا ہے۔حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب بھی تہجد میں حضرت اقدس طالب علمی کے زمانہ میں لاہور میں قیام کے دوران آپ نے حضرت اقدس مسیح مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی بابت دعاؤں میں لگے رہے۔جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ مختلف خوابوں کے ذریعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی موعود علیہ السلام کا ذکر سنا تو آپ کے دل میں احمدیت کے متعلق جاننے کی جستجو پیدا سچائی کے بارے میں آگاہ کیا۔مگر چونکہ خوابوں میں ایک رنگ اخفاء کا ہوتا ہے اس ہوئی اور آپ نے جاننا چاہا کہ احمدیت کیا چیز ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سچے لئے آپ حقیقت تک نہ پہنچ سکے۔مگر پانچواں خواب فیصلہ کن ثابت ہوا۔جس میں آپ ہیں یا نہیں؟ لیکن مخالفین کی شدید مخالفت کی وجہ سے آپ کو احمد بیت کی صحیح تعلیم سے نے دیکھا کہ آپ (بیت الذکر) کے برآمدہ میں قبلہ رو بیٹھے ہوئے قرآن مجید پڑھ آگا ہی نہ ہوئی۔رہے ہیں اس دوران حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے ہیں اور آپ کے پاس ایک دفعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جب لا ہور تشریف لائے تو آپ آکر کھڑے ہو گئے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضور بات کرنے کیلئے تلاوت ختم نے ملاقات کی بہت کوشش کی مگر نہ تو مخالفین آپ کے قیام کا پتہ معلوم ہونے دیتے تھے ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب کے دل میں کبھی خیال آتا اور نہ ہی احمدی احتیاط کی وجہ سے آپ کے بارے میں معلومات دیتے تھے۔اس لئے ہے کہ ایک آدمی کے واسطے میں قرآن مجید کی تلاوت کیوں بند کر دوں پھر خیال آتا ہے کہ ایک شریف آدمی انتظار میں کھڑا ہے اور میں اس کی پرواہ نہ کروں اور تلاوت میں ملاقات کا موقع نہ مل سکا۔