حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ؓ

by Other Authors

Page 4 of 18

حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ؓ — Page 4

5 4 کہ اگر اس بار بھی بھائی اٹک گئے تو والد صاحب سے مار پڑے گی۔اس پر والد پیاس برداشت کی۔مگر بہتر سے بہتر علم کی تلاش میں سرگرم رہے۔آپ نے قرآن مجید، صاحب کو بہت تعجب ہوا اور پوچھا کہ تمہیں کس طرح آ گیا۔آپ نے کہا کہ مجھے سبق حدیث اور طب کے ساتھ ساتھ دوسرے مروجہ علوم بھی حاصل کئے۔ایک دفعہ سننے سے یاد ہو جاتا ہے اور جب آپ پڑھاتے ہیں تو میں پاس بیٹھ کر سن لیتا ملازمت ہوں۔اس پر آپ کے والد صاحب نے آپ کو سبق سنانے کو کہا جو آپ نے سنا دیا۔( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ اول صفحہ 14 ) حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب تعلیم سے فارغ ہو کر دوسال مدرسہ مظاہر العلوم ( رفقائے احمد جلد پنجم حصہ دوم صفحہ 16) آپ طلباء کے پسندیدہ استاد تھے اور آپ نے طلباء کو اجازت دے رکھی تھی کہ انہیں جب بھی اور جس وقت بھی کوئی بھی علمی مسئلہ در پیش ہو وہ بلا جھجک آپ سے پوچھ بچو! دیکھا اللہ تعالیٰ نے حضرت سید سرور شاہ صاحب کو کیسی ذہانت عطا فرمائی سہارن پور میں پڑھاتے رہے۔ہوئی تھی کہ صرف ایک دفعہ سبق دہرانے سے آپ کو سبق یاد ہو جایا کرتا تھا۔یہ وہ اوامر تھے جن کی وجہ سے آپ کے والد صاحب نے بھی آپ کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دے دی۔اس طرح آپ کی عمرا بھی صرف تیرہ برس کی تھی کہ آپ نے حصول تعلیم کے سکتے تھے۔پھر آپ ایبٹ آباد میں ایک انجمن کے ملازم ہو گئے اور قرآن مجید کی تفسیر لئے اپنے گھر کو خیر باد کہہ دیا اور بہت مشکلات اور تکالیف برداشت کیں مگر علم کے پڑھانے لگے جہاں سے آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت حصول کے لئے آپ نے کسی مشکل کو آڑے نہ آنے دیا۔حتی کہ ایک بار آپ نے قسم کھا کرنے کی وجہ سے برخاست کر دیا گیا۔مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی ملازمت کے سامان کر کہا کہ میں گرمی یا کسی اور تکلیف کی وجہ سے اُس جگہ کو جہاں میر اسبق اچھا ہوتا ہے کر دیئے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کے طفیل آپ کو مشن کالج پشاور میں پڑھانے کی ملازمت مل گئی جہاں آپ بیعت کے بعد اڑھائی سال تک پڑھاتے ہر گز نہیں چھوڑوں گا تا وقتیکہ میرے سبق میں کوئی حرج واقعہ ہونے لگے۔( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ اول صفحہ (21) رہے۔چنانچہ علم کے حصول کی خاطر آپ نے مشکل ترین سفر اختیار کئے اور شدید دھوپ حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب بھیروی سے ملاقات میں دو دو میل تک پیدل بھی چلنا پڑا مگر آپ اپنے استاد کے پاس جاتے اور سبق لیتے۔حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب کے والد سید محمد حسن شاہ صاحب حضرت حکیم آپ ہمیشہ اس کوشش میں رہتے کہ علم اور تقویٰ کے لحاظ سے بہتر سے بہتر استاد کی تلاش مولانا نورالدین صاحب بھیروی (خلیفہ اسیح الاوّل) کے عقیدت مند تھے اور آپ کی جائے۔اس کے لئے آپ کو بہت سی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔پشاور ، ہزارہ ، نے سید محمد سرور شاہ صاحب کو تاکید کر رکھی تھی کہ جب بھی حضرت حکیم مولانا نورالدین لاہور ، سہارنپور اور دیو بند وغیرہ کے سفر اختیار کئے۔راتوں کو بیوت میں رہے ، بھوک صاحب لاہور تشریف لائیں تو ان سے ضرور ملا کرو۔چنانچہ ایک دفعہ لاہور میں زمانہ