حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ؓ — Page 3
3 2 بچپن سے ہی آپ کی طبیعت اس قدر حساس تھی کہ آپ کے والد صاحب نے انہی دنوں کا ایک واقعہ ایسا ہے جس سے آپ کی ذہانت کا اندازہ لگایا جا سکتا آپ کے استاد کو کہ رکھا تھا کہ میرے اس بچہ کو آپ بالکل نہ ماریں۔میرے دوسرے ہے۔ابھی آپ نے لکھنا نہ سیکھا تھا کہ آپ کے والد صاحب ایک دفعہ ہزارہ گئے اور بچوں کو آپ مارتے بھی ہیں پھر بھی وہ پڑھتے ہیں مگر یہ نہیں پڑھے گا۔اس کے باوجود ان کی غیر حاضری میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس کی اطلاع حضرت سید سرور شاہ صاحب آپ کے استاد صاحب نے ایک دن غصہ میں آپ کی پیٹھ پر تیج ماردی۔جس کا نتیجہ یہ اپنے والد صاحب کو دینا ضروری سمجھتے تھے لیکن آپ یہ بھی پسند نہ کرتے تھے کہ اس کے ہوا کہ آپ بالکل خاموش ہی ہو گئے اور مسلسل تین دن تک یہی کیفیت رہی۔بالآخر بارہ میں کسی اور کو معلوم ہو۔اُس زمانے میں فارسی میں خطوط لکھنے کا رواج تھا اور آپ کو استاد آپ کو والد کے پاس لے گئے انہوں نے کہا کہ آپ نے ضرور بچہ کو مارا ہوگا۔اس قدر فاری آتی تھی کہ اپنا مافی الضمیر ادا کر سکیں۔چنانچہ آپ نے فارسی کی ایک استاد صاحب نے واقعہ سنایا کہ مارا تو نہیں صرف حقیہ کے طور پر ایک تسبیح ماری تھی۔کتاب ” گلستان اپنے سامنے کھول کر رکھ لی اور جو لفظ لکھنا ہوتا اس میں سے تلاش کر والد صاحب نے کہا کہ میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ اسے مت ماریں۔آئندہ کے لئے کے اس جیسی شکل کا غذ پر بنا لیتے۔اس طرح آپ نے خط مکمل کر کے نوکر کے ہاتھ والد آپ طے کر لیں کہ جب یہ سبق یاد کر لے تو اسے چھٹی دے دیا کریں۔خواہ چھٹی کا صاحب کو بھیج دیا۔وقت ہو گیا ہو یا نہ ہوا ہو۔والد صاحب اسے دیکھ کر حیران ہو گئے اور آپ کے بھائیوں کو سرزنش کی کہ تمہیں ( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ اول صفحہ 13 ) استاد اور میں بھی باقاعدہ پڑھاتا ہوں مگر تمہیں ابھی تک لکھنا نہیں آیا لیکن جسے کوئی نہیں عزیز ساتھیو! پھر ایک اور ایسا واقعہ ہوا۔جس کی بناء پر آپ کے والد صاحب کو یہ بچپن میں آپ کی زبان میں لکنت تھی اور پھر اس خیال سے بھی کہ بڑے دو بیٹے پڑھاتا اس نے ایسا عمدہ خط لکھا ہے۔پڑھتے ہیں اگر چھوٹے بیٹے کو تعلیم دلا دی تو زمینداری کا کام کون سنبھالے گا۔آپ کے والد صاحب نے آپ کو پڑھائی سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی فیصلہ کرنا پڑا کہ آپ کو ضر ور تعلیم دلوائی جائے۔ذہنی استعداد عطا کی ہوئی تھی کہ ان کے بھائیوں کو تو بار بار سبق دہرانے سے بھی یاد نہ ہوا کچھ یوں کہ حضرت سید سرور شاہ صاحب کے والد صاحب آپ کے بڑے ہوتا تھا مگر آپ کو ایک بار دہرانے سے ہی یا د ہو جاتا۔بعض اوقات آپ کا بھائی آپ کو بھائی سے مغرب کے بعد سبق سنا کرتے تھے۔ایک روز وہ سبق سناتے ہوئے ایک جگہ کوئی چیز دے کر پاس بیٹھنے پر آمادہ کر لیتا تا کہ آپ سبق یاد کر لیں اور بعد میں آپ اٹک گئے۔والد صاحب نے پھر شروع سے سنانے کو کہا لیکن پھر بھی وہ اسی جگہ اٹک گئے۔پھر والد صاحب کے کہنے پر تیسری بار شروع سے سناتے ہوئے اسی جگہ پہنچے تو سے سبق دہرا لیتا۔( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ اول صفحہ 13 ) حضرت سید سرور شاہ صاحب کے منہ سے بے ساختہ وہ لفظ نکل گیا کیونکہ آپ کو یقین تھا