حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 81
شامل ہر شخص کے خد وخال بہت نمایاں تھے مگر افسوس ان پر کوئی نام درج نہیں تھا۔خوش قسمتی سے اس زمانے میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی سب سے بڑی بہو حضرت سیده بی بی صاحبہ بقید حیات تھیں اور پورے خاندان میں وہی اس مقدس وجود کی شناخت کر سکتی تھیں جیسا کہ صاحبزادہ سید احمد لطیف صاحب ابن حضرت صاحبزادہ سید محمد طیب صاحب تحریر فرماتے ہیں: ” ہماری تائی جان مرحومہ حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہید مرحوم کے خاندان کی وہ آخری خاتون تھیں جنہوں نے حضرت شہید مرحوم کا پُر نور چہرہ دیکھا۔آپ کی پاکیزہ صحبت میں ایک لمبا عرصہ رہ کر آپ کی خدمت کا شرف حاصل کیا۔۔۔۔مرحومہ کی شادی غالبا ۱۸۹۴ء میں ہوئی۔حضرت شہید مرحوم نے خود اپنے خاندان میں ہی اپنے سب سے بڑے فرزند (صاحبزادہ سید محمد سعید ) سے شادی کرائی۔“ روزنامه الفضل ربوه ۸ رستمبر ۱۹۶۸ء صفحه ۵ کالم نمبر۱) رقم الحروف سرائے نورنگ ضلع بنوں میں گیا جہاں یہ مبارک خاندان ہجرت افغانستان کے بعد قیام پذیر تھا۔مکرم صاحبزادہ سید ھبتہ اللہ صاحب سے کئی اہم معلومات حاصل ہوئیں اور انہوں نے بتایا کہ حضرت سیدہ بی بی صاحبہ کے نزدیک فوٹو میں جو بزرگ عمامہ پہنے اور جبہ زیب تن کئے ہوئے ہیں وہ یقینی طور پر حضرت صاحبزادہ صاحب ہی ہیں۔اس تصدیق کے بعد دسمبر ۱۹۶۲ء میں تاریخ احمدیت جلد سوم کے صفحہ ۱۶۶ پر ایک گروپ فوٹو مندرجہ ذیل نوٹ کے ساتھ شائع کر دیا گیا۔دو پہلی قطار بائیں سے دائیں۔اسر عبد القیوم خان آف ٹوپی (۲) سر مار ٹیمر ڈیورنڈ (۳) شرندل خان گورنر خوست ان کے بعد چوتھے نمبر پر جو بزرگ کھڑے ہیں وہ صاحبزادہ سعید جان مرحوم کی اہلیہ (شہید مرحوم کی بڑی بہو ) کی 81