حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 78
آپ کے ہاتھ پر لگیں اور وہ بچ جاوے۔گورنر نے یہ دیکھ کر اپنے بیٹے کو حکم دیا کہ باہر جا کر سزا دی جاوے۔صاحبزادہ صاحب نہ دیکھیں بیٹے نے باہر لے جا کر چھوڑ دیا اس لحاظ سے کہ صاحبزادہ صاحب نے معاف کر دیا تھا۔ایک دفعہ خوست کے جرنیل نے رعایا پر ظلم کیا اور اطراف میں لوگوں کے ختنے کرا دیئے اور بہت رشوت لی۔اس سے فراغت پاکر سید گاہ کے قریب ڈیرہ آلگایا۔جمعہ کے روز جرنیل نے ایک آدمی بھیجا کہ ہمارا انتظار کیا جاوے کہ ہم بھی نماز جمعہ میں شامل ہو جاویں۔صاحبزادہ صاحب نے پروا نہ کی اور نماز شروع کر دی۔جرنیل خطبہ میں شامل ہو گیا۔جرنیل نے صاحبزادہ صاحب کہا کہ میں نے دین کی بڑی خدمت کی ہے کہ بہت لوگوں کا ختنہ کرادیا۔آپ نے فرمایا کہ خدمت دین کی تو کیا ہوا۔غریبوں کا تم نے چھڑا اتار لیا۔ظلم کیا۔رشوت لی۔تمہارا تمام لباس حرام کا ہے اس سے نماز نہیں ہوتی۔جرنیل شرمندہ ہوا اور کچھ نہ بولا۔ایک بارصاحبزادہ صاحب امیر عبدالرحمن خان کے دربار میں گئے وہ بہت خوش ہوا۔آپ سے کہا کہ سوات کے لوگ یا تو انگریزوں کی رعایا ر ہیں گے یا ہماری۔درمیان میں ہرگز نہیں رہ سکتے اور میں نے ان کو بلا بھیجا تھا لیکن سوات کے مولوی کے بیٹے نے آنے سے منع کر دیا اور مسلمانوں کی سلطنت سے روکنا کافر ہو جاتا ہے یا نہیں ؟ آپ سُن کر چپ ہو گئے اور سوچا کہ خدا جانے کہ اس نے کس غرض سے منع کیا ہوگا؟ پھر دوبارہ امیر نے کہا لیکن آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔تیسری بار عام لوگوں کو مخاطب کر کے کہا۔تمام حاضرین نے شور مچا دیا کہ ہاں صاحب وہ کافر ہو گیا۔لیکن صاحبزادہ نے پھر احتیاطا سکوت کیا۔ایک دفعہ جب مولوی عبدالغفار صاحب مرحوم مہاجر دار الامان کی والدہ فوت ہوئی تو آپ نے نماز جنازہ پڑھائی تو اس وقت زور کی بارش ہورہی تھی۔آپ نے بڑی دیر تک دُعا کی۔78