حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 76
جو قصداًنماز کو وقت سے پہلے پڑھے اس نے نماز کی بہتک کی۔اور یہ کفر ہے۔سو تم غوث کیا اس پر خود ہی کفر کا فتویٰ لگاتے ہو۔اور عوام جو خواندہ نہیں تھے آپ کے پاس تنازعوں اور جھگڑوں کے وقت آیا کرتے تھے۔اور آپ کی بات کو کوئی رد نہیں کر سکتا تھا تو آپ ان کو اس طور سے نصیحت کرتے تھے۔آپ لوگوں کے لئے قیامت میں کوئی عذر نہ ہو گا کہ تم لوگ مباحثات کے وقت تو مجھ پر اعتماد رکھتے ہو اور عقیدہ میں مجھ پر اعتماد نہیں کرتے اور اپنے پیر کی جھوٹی باتوں کی پیروی کرتے ہو ہمارے تمہارے درمیان مسائل کا اختلاف ہے۔اُن کو تم بھی لکھ لو اور میں لکھتا ہوں۔دو شخصوں کو خرچ دے کر مکہ بھیجتے ہیں۔اگر انہوں نے تمہارے کاغذ پر تصدیق کر کے مہر لگا دی تو تم بچے اور میں خاموش ہو جاؤں گا اور یہ سمجھ لوں گا کہ تمام جہان پر تاریکی پھیل گئی ہے اور اگر میرے کاغذ کی تصدیق کر کے مہر لگا دی تو تم کو تو بہ کر کے میری طرف لوٹ آنا چاہئے۔اور بڑے حکام کو یہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ تم لوگ کہتے ہو کہ ہم شریعت پر عدل کے ساتھ حکومت کرتے ہیں تو رعایا آپ سے ناراض کیوں ہے اور تنگ کس لئے ہے۔شریعت تو ایسی نرم ہے کہ اگر اس پر قائم رہو تو انگریزی حکومت کے ہندو اور تمام مذہبوں کے لوگ کہہ اٹھیں کہ کاش ہم پر یہ لوگ حکومت کرتے۔برعکس اس کے تمہاری رعایا یہ کہتی ہے کہ انگریزی حکومت ہم پر ہوتی تو اچھا ہے۔کیونکہ تم نہ شریعت کی پروا کرتے ہونہ قانون کا خیال۔حضرت صاحبزادہ صاحب فرماتے تھے کہ مجھ پر خدا تعالیٰ نے بہت سے امور منکشف فرمائے۔ایک دفعہ رات کے وقت نماز کو جارہا تھا کہ میرا پاؤں کیچڑ سے پھسل گیا اور گر گیا اس سے میرا دل خراب ہو گیا اور میں گھبرا گیا۔یک لخت میری زبان پر جاری ہوا کہ درویشاں سنگ برمیدارند ( جو درویش ہوتے ہیں اگر اُن پر پتھر برسائے جائیں پروانہیں کرتے۔)۔۔۔۔حضرت صاحبزادہ صاحب جب کبھی سرداروں اور حاکموں کے ساتھ جایا کرتے تو اپنا خرچ اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔حاکم بہت زور دیتے کہ ہمارا کھانا کھائیں لیکن آپ 76%