حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 75
میں قید نظر بند کئے گئے۔آپ کی چار بیویاں اور اٹھارہ لڑکے لڑکیاں تھے۔آپ کی موجودگی میں تین بیویاں اور چھ لڑکے لڑکیاں رہ گئے اور باقی گزر گئے۔آپ کی شہادت کے بعد آپ کے اہل وعیال کو جلا وطن کر کے بیچ پہنچایا گیا اور تمام ملک ضبط کی گئی۔چند سال کے بعد ان نظر بند قیدیوں نے امیر سے کہا کہ ہم کس قصور میں قید کئے گئے براہ مہربانی ہمیں ہمارے ملک میں واپس بھیجا جاوے۔پس وہ رہا کئے گئے اور وطن میں بھیجا گیا اور ضبط شدہ ملک بھی واپس دیدی گئی۔پھر کچھ عرصہ کے بعد نظر بند کئے گئے اور جائیداد ضبط ہوگئی۔۔۔شیخان لوگ اپنے مرشد کو عالم الغیب مانتے تھے اور صاحبزادہ صاحب فرماتے کہ انسان کو خواہ وہ کسی درجہ پر ہو عالم الغیب جانا سراسر غلطی ہے۔عالم الغیب خدا ہے اور کوئی نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کون ہے ان کو بھی خدا یہ حکم دیتا ہے قُلْ رَبِّ زِدْنِی عِلْمًا۔وہ بھی کوئی بات بیان فرماتے تو وحی کے ذریعہ سے فرماتے۔حضرت موسیقی اولوالعزم رسول خضر سے علم سیکھنے کے لئے گئے۔غیب کی باتیں معلوم نہیں ہوسکتیں خدا ہی ہر ایک چیز کا علم رکھنے والا اور غیب دان ہے۔شیخان کہتے ہیں کہ ہمارے پیر غوث تھے۔سات آسمان پر سات دریا ہیں ان میں ریت اور کنکر ہیں ان سب کی تعداد بھی معلوم ہے۔صاحبزادہ صاحب فرماتے کہ یہ تو اہل کشف کی باتیں ہیں۔اہل کشف تو کہتے ہیں کہ غوث ہر زمانہ میں ہوتا ہے۔اور بعض کہتے ہیں کہ نہیں۔جو مانتے ہیں ان کا قول ہے کہ عارف اور بزرگ ہر زمانہ میں ہوتے ہیں اور بزرگ متقی ہوتے ہیں۔شریعت کے پابند اور معرفت الہی رکھتے ہیں اور تم جو کہتے ہو کہ اکثر ہمارے پیر سے یہ ایسا واقعہ ہوا ہے کہ چاندنی راتوں میں پو پھٹنے سے پہلے صبح کی نماز ادا کی اور معلوم ہونے پر نماز وقت پر دہرائی۔اتنا بڑا سورج نظر نہ آیا اور نماز میں غلطی ہوگئی۔وہ چیز جو سات آسمان کے اوپر ہے اور دریاؤں کی تہ میں ہے اس کی گنتی کیونکر نظر آوے۔شیخان جواب دیتے کہ وہ اپنے آپ کو چھپاتے تھے۔صاحبزادہ صاحب فرماتے کہ 75