حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 60 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 60

مہمان نواز تھے۔خواہ امیر ہو یا غریب۔میں بھی اپنے استاد کے ساتھ ایک دو جمعہ صاحبزادہ صاحب کے پاس درس سننے کے لئے جاتا رہا۔ان کے وعظ اور کلام نے میرے دل میں ایسا اثر پیدا کیا کہ میں استاد کی اجازت کے بغیر ان کے پاس رہنے لگا۔کچھ دنوں کے بعد میرے استاد کا حکم آیا کہ تم میرے پاس سے بغیر اجازت گئے ہو میں تم سے بہت ناراض ہوں ہر گز نہیں بخشوں گا۔اس وقت میرے دل میں خوف پیدا ہوا کہ یہ میرا استاد ہے کہیں بددعا نہ دے۔ایک طرف تو صاحبزادہ صاحب سے الگ ہونے کو دل نہیں چاہتا تھا۔دوسری طرف استاد کا خوف رہتا تھا۔آخر میں نے صاحبزادہ صاحب سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا۔ایک مولوی کی اگر کوئی شاگردی اختیار کرے تو اس سے یہ مطلب تو نہیں کہ بس غلام ہی ہو گیا ہے۔جہاں آپ کا دل چاہتا ہے تعلیم پائیں۔اگر آپ یہاں رہنا چاہتے ہیں بیشک آپ یہاں ٹھہریں اور دینی تعلیم پائیں۔پس میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں رہ کر بہت سے حقائق اور معارف سنتارہا اور میرے دل میں بہت اثر ہوا۔اس ملک خوست میں شیخان قوم کے لوگ بہت ہیں اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ ان کے پیر کو آسمان کی مخلوق اور دریاؤں کا علم ہے اور جو زمین کے نیچے ہے ان کا بھی علم ہے۔بلکہ یہاں تک کہ جو آسمان پر دریا اور ان میں کنکر پتھر وغیرہ ہیں سب کا علم ہے۔چونکہ میں بھی اسی عقیدہ پر تھا۔میں نے اس کے بارہ میں صاحبزادہ صاحب سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ بالکل غلط ہے پیر و مرشد جو ہوتے ہیں یہ خدا تعالیٰ کے بندے اور اس کے حکم کے پابند اور اس کے رسولوں کے قدم بقدم چلتے ہیں بزرگی یا ولایت قطبیت و غوثیت یہی ہے۔دوسرے مولویوں اور صاحبزادہ صاحب کے کلام میں بہت فرق تھا۔جب ان سے کسی حکم یا مسئلہ کی بابت پوچھو تو جواب ملتا تھا کہ میرے خیال میں تو اس طرح سے ہو گا لیکن اگر صاحبزادہ صاحب سے پوچھا جاتا تو فرماتے کہ یہ حکم اس طرح پر ہے۔یعنی اور لوگ گمان سے کہتے تھے لیکن صاحبزادہ صاحب یقین سے جواب دیا کرتے تھے کہ یہ حکم اس طریق پر ہے۔09