حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 38
سے میں نے معلوم کیا۔کہ خدا نے مصلح بھیج دیا ہے اور جس کی تقدیر میں تھا وہ ہو چکا ہے۔یہ وہی شخص ہے کہ جس کے بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی ہے کہ جہاں بھی نازل ہو اس کی طرف دوڑو اور سلام بھی بھیجا تھا۔لہذا میں زندہ ہوں گا یا مُردہ۔لیکن جو میری بات مانتا ہے اس کو میں وصیت کرتا ہوں کہ ضرور اس شخص کی طرف جائے۔چند بار اپنے طلباء کو شوق دلایا کہ وہ مسیح موعود کو دیکھیں کہ کہاں ہیں اور کیا حال ہے جن میں سے مولوی سید عبدالستار صاحب جو آج کل قادیان شریف میں مہاجر کی حیثیت سے رہتے ہیں کئی بار آئے اور طلباء جو قادیان شریف آ کر واپس گئے تو انہوں نے کچھ شکوک بیان کئے تو شہید مرحوم نے ان کے شکوک کو رفع کیا اور بتلایا کہ یہ شخص سچا ہے اور تم غلطی پر ہو۔اس کے بعد مولوی عبد الرحمن شہید مرحوم کو جو حضرت صاحبزادہ صاحب کے شاگرد تھے اور ان کو امیر کی طرف سے دوسو چالیس روپئے ملتے تھے اور منگل قوم کے تھے۔چند اپنے شاگردوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف بھیجا اور اپنی بیعت کا خط بھی دیا۔اور میں نے بھی اپنی بیعت کا خط دیدیا۔اور آپ نے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے کچھ خلعتیں تحفہ کے طور پر دیں کہ یہ آپ کی خدمت میں پہنچا دو۔پس مولوی صاحب موصوف مرحوم بیعت کے خطوط اور خلعتیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کرنے کے بعد کچھ روز ٹھہرے اس کے بعد کچھ تصانیف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شہید مرحوم کے لئے لے جا کر میں اور اپنے مقام پر جو منگل میں ہے چلے گئے۔اس اثناء میں امیر عبدالرحمن خان کے پاس کسی نے رپورٹ کی کہ مولوی عبدالرحمن جو منگل قوم کے ہیں اور جو آپ سے دوسو چالیس روپئے پاتے ہیں کسی غیر ملک میں چلے گئے ہیں۔امیر عبدالرحمن خان کی طرف سے گورنرخوست کے نام حکم پہنچا کہ مولوی عبدالرحمن کو گرفتار کیا جاوے گورنر نے شہید مرحوم کو اطلاع دی کہ ایسا حکم امیر کی طرف سے آیا ہے جب مولوی عبد الرحمن صاحب کو معلوم ہوا تو وہ چھپ گئے۔اس کے بعد دوبارہ حکم ہوا کہ اس کا 38