حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 2
بسم اللہ الرحمن الرحیم نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى اس زمانہ میں اگر چہ آسمان کے نیچے طرح طرح کے ظلم ہورہے ہیں مگر جس ظلم کو ابھی میں ذیل میں بیان کروں گا۔وہ ایک ایسا دردناک حادثہ ہے کہ دل کو ہلا دیتا ہے اور بدن پر لرزہ ڈالتا ہے۔۔۔۔انہیں دنوں میں جبکہ نہایت زبردست اور قومی نشان ظاہر ہوئے اور میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا دلائل کے ساتھ دنیا میں شائع ہوا۔خوست علاقہ حدود کابل میں ایک بزرگ تک جن کا نام اخوند زادہ مولوی عبد اللطیف ہے۔کسی اتفاق سے میری کتا میں پہنچیں اور وہ تمام دلائل جو نقل اور عقل اور تائیدات سماوی سے میں نے اپنی کتابوں میں لکھے تھے۔وہ سب دلیلیں ان کی نظر سے گزریں۔اور چونکہ وہ بزرگ نہایت پاک باطن اور اہلِ علم اور اہلِ فراست اور خدا ترس اور تقویٰ شعار تھے۔اس لئے ان کے دل پر ان دلائل کا قوی اثر ہوا۔اور ان کو اس دعوے کی تصدیق میں کوئی دقت پیش نہ آئی اور ان کی پاک کانشنس نے بلا توقف مان لیا کہ یہ شخص منجانب اللہ ہے اور یہ دعویٰ صحیح ہے۔تب انہوں نے میری کتابوں کو نہایت محبت سے دیکھنا شروع کیا اور ان کی رُوح جو نہایت صاف اور مستعد تھی میری طرف کھینچی گئی یہاں تک ان کے لئے بغیر ملاقات کے دور بیٹھے رہنا نہایت دشوار ہو گیا۔آخر اس زبر دست کشش اور محبت اور اخلاص کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اس غرض سے کہ ریاست کابل سے اجازت حاصل ہو جائے حج کے لئے مصمم ارادہ کیا اور امیر کابل سے اس سفر کے لئے درخواست کی۔چونکہ وہ امیر کابل کی نظر میں ایک برگزیدہ عالم اور تمام علماء کے سردار سمجھے