حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 77
بالکل ان کے خرچ سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔حاکم رعایا سے ظلئما لیتے تھے۔ایک دفعہ گورنر مذکور نے بہت اصرار کیا کہ آپ اس کے ساتھ چائے پیئیں۔اور کہا کہ ہندو لوگ ہمیں رضامندی اور خوشی سے چائے دیتے ہیں ہم زور و ظلم سے نہیں لیتے اس لئے آپ کبھی کبھی چائے پی لیا کرتے تھے۔ایک دفعہ گورنر نے ایک کوٹھی بنوائی آپ سے کہا کہ اس میں کوئی نقص بتا دیں کہ آپ اس فن سے بھی واقف ہیں آپ کچھ دیر چپ رہے پھر فرمایا کہ میں کیا بتاؤں اگر نقص نکالوں تو آپ جبراً کسی نجار سے درست کرالیں گے۔اگر نہ بتاؤں تو آپ اصرار کرتے ہیں کہ ضرور نقص بتاؤ ( وہاں ہر صبح کاریگروں کو حاکم بیگار میں پکڑوا کر بلاتے ہیں ) اس وقت کئی نجار تھے ایک باہر کھڑا باتیں سن رہا تھا وہ حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ نقص بتا دیں میں خوشی سے درست کر دوں گا۔تب آپ نے تمام نقص بتا دیئے۔ایک دفعہ ایک غریب آدمی کے ساتھ قاضی کا مقدمہ تھا۔گورنر نے صاحبزادہ صاحب کو فیصلہ کے لئے مقرر کیا۔تاریخ پر حاضر ہو کر وہ آدمی عاجزی ظاہر کرنے لگا اور اسے خوف تھا کہ صاحبزادہ صاحب قاضی کے حق میں فیصلہ نہ کر دیں۔صاحبزادہ صاحب جوش میں آگئے اور اس کو کہا کہ اگر ایک ہندو غریب کا گورنر سے مقدمہ ہو جاوے تو میں کسی کی طرفداری یا رعایت نہیں کروں گا۔اس وقت ایک ہندو اور گورنر بھی موجود تھے۔گورنر کو خوف پیدا ہوا اور ہندو سے اپنے آپ کو سمیٹ کر بیٹھ گیا۔ایک بارصاحبزادہ صاحب بھی دربار میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک آدمی کو سزا کے لئے بلا یا گیا۔جس وقت وہ حاضر ہوا گورنر نے حکم دیا کہ اس کولٹا کر بید مارے جائیں۔اور مجرم کو نہیں چھوڑا جاتا تھا جب تک کہ مرنے کے قریب نہ پہنچ جاوے۔جب سزا مل رہی تھی صاحبزادہ صاحب نے خیال کیا کہ گورنر غصہ میں ہے سزا بند نہیں ہوگی اور وہ مجرم اس قد رسزا برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ بوڑھا تھا تو اپنے ہاتھوں پر کپڑا لپیٹ کر اس پر ہاتھ کر دیئے کہ بید 77