حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 74
جب اپنے ملک اور اپنے گاؤں سید گاہ کے قریب پہنچے تو تمام عزیز و اقارب اور شاگرد وغیرہ آپ کی ملاقات کے لئے گھوڑوں پر سوار ہو کر آئے اور بڑی خوشی منائی کہ صاحبزادہ صاحب حج سے واپس آگئے۔آپ نے فرمایا میں حج سے نہیں آیا بلکہ قادیان سے آیا ہوں۔جہاں ایک مقبول الہی مستجاب الدعوات اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ رکھتا ہے۔آپ صاحبوں کو یہ خبر دینے آیا ہوں وہ سچا ہے صادق ہے تاکہ تم اس کا انکار نہ کر کے اقرار کرلو اور خدا کے عذاب اور قہر سے بچ جاؤ اور اس کی رحمتوں کے وارث اور مورد بن جاؤ۔اور بہت سی باتیں نصیحت کے طور پر فرمائیں۔آپ کے رشتہ دار بہت ناراض ہوئے اور کہنے لگے کہ ان کی بابت ہم کو یہ خبر ملی ہے کہ قادیانی نصف قرآن مانتا ہے۔اور نصف کا انکار کرتا ہے اور کافر ہے اس کا پیرو بھی کافر ہے اور قادیان جانا بھی کفر ہے۔اگر یہ باتیں آپ کی امیر کے پاس پہنچیں گی اور وہ سنے گا تو ہم تمام قتل کئے جائیں گے اور تباہ کر دیئے جائیں گے۔آپ نے فرمایا کہ تم اس ملک کو چھوڑ کر بنو چلے جاؤ۔وہاں بھی زمین ہے۔یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا اس سے کہ تم خدا کے مامور کا انکار کرو۔ورنہ میں ایک ایسی بلا تمہارے پیچھے لایا ہوں کہ کبھی بھی تم بچ نہیں سکو گے اور میں تو اس بات سے ہرگز نہیں ٹلوں گا۔یہ خدا کا فرمان ہے۔مجھے اس کا پہنچا نا بہت ضرور ہے۔اور میں نے اپنا مال اور اپنی اولا داور اپنا نفس خدا کی راہ میں دیدیا ہے۔خدا نے نہیں لیا تھا۔اب موقعہ آیا ہے کہ اس نے لے لیا اور تم دیکھ لو گے کہ میرا مال، اور میرے اہل وعیال اور میر انفس کس طرح خدا کی راہ میں فدا ہوتا ہے اور تم دیکھ لو گے کہ میں اپنی دولت اور عزت اور عیال کس طرح ایک چٹکی میں پھینکتا ہوں۔آپ نے سید گاہ میں پندرہ بیس دن گزارے ہوں گے بڑے بڑے عمائد آپ کے پاس آتے اور کہتے کہ اگر یہ باتیں آپ چھوڑ دیں تو بہت اچھا ہے۔مگر آپ نے کوئی پرواہ نہیں کی اور امیر کو خبر پہنچنے پر آپ کو کچھ سواروں کے ساتھ کا بل بلایا گیا اور آپ ارگ کے قید خانہ 74