حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 73 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 73

نے فقیر کے ہاتھ پر بیعت کی تو اس نے کہا کہ مجھے ہر طریقہ کی اجازت دی ہوئی ہے لیکن نقشبندی میں بیعت لیتا ہوں۔اس کے بعد کچھ دنوں کے لئے فقیر چلا گیا اور آپ پر بہت سے اسرار کھلے چند روز کے بعد تیسری بار وہ فقیر آیا۔کچھ باتیں ہوئیں تو فقیر نے کہا آپ نے تو بہت ترقی کی کہ میں بالکل آپ کی طرف نہیں دیکھ سکتا۔فقیر نے صاحبزادہ صاحب سے ٹوپی جو ان کے سر پر تھی تبرک کے طور سے لے لی اور اپنے پاس سے بھی کوئی چیز تبرک کے لئے دیدی اور بیعت لینے کی خلیفہ کر کے اجازت دیدی۔فقیر نے آپ سے یہ بھی کہا کہ ایسا لائق آدمی میں نے نہیں دیکھا۔اور کہا کہ میں مولوی عبد الحئی کے پاس بھی گیا تھا لیکن میں نے اس میں ایسی جگہ نہیں پائی۔آخر کچھ عرصہ کے بعد صاحبزادہ صاحب اپنے وطن خوست کو چلے آئے۔حضرت صاحبزادہ صاحب سے احمد نور نے عرض کیا کہ میرے والد صاحب کہا کرتے تھے کہ میرے ایک کان میں سورج چڑھتا ہے اور دوسرے میں غروب ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ مجھ میں سورج چڑھتا ہے اور کبھی غروب نہیں ہوتا۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ یہ وہی شخص ہے جس کی دنیا انتظار کر رہی تھی۔خدا کی طرف سے سچا اور لوگوں کو راہ راست پر لانے والا ہے۔۔۔۔ایک روز صاحبزادہ صاحب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ ملائکہ نے میرے سبب سے بہت سے لوگوں کو قتل کیا ہے۔میں کیا کروں میں نے تو قتل نہیں کئے۔۔۔۔ایک دفعہ ہم گھر جارہے تھے کہ صاحبزادہ صاحب شہید مرحوم سے کو ہاٹ میں ایک آدمی کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں گفتگو ہوئی۔اس نے انکار کیا آپ نے فرمایا تم اپنے شہر کا حال دریافت کرو کہ کیا حال ہوا ہے۔ہمیں آپ سے دریافت کرنے کا موقعہ نہیں ملا۔جہاں رات ہوتی قیام کرتے لوگ ملاقات کے لئے آتے تو آپ مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر ضرور کرتے۔73