حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 61
تب مجھے معلوم ہوا کہ اگر سچا آدمی ہے تو یہی ہے۔آخر جب شرندل خان جو کہ امیر عبدالرحمن صاحب کا چازاد بھائی تھا گورنرخوست مقرر ہوا۔اس نے جب صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کا پُر اثر کلام سنا اور علم اور عمدہ بیان اور مہمان نوازی کی شان و شوکت دیکھی اور ان کے مریدوں کی کثرت اور تقویٰ نے ان کے دل پر اثر کیا تو یہ دل میں شوق پیدا ہوا کہ صاحبزادہ صاحب کو ہمیشہ اپنے پاس رکھوں اور جہاں میں جاؤں یہ میرے (ساتھ ) ہوں ان اُمیدوں کو لئے ہوئے صاحبزادہ صاحب سے ذکر کے اپنے پاس رکھا۔جہاں گورنر جایا کرتا آپ کو بھی گھر سے بلا کر لے جایا کرتا۔گورنر کو آپ کی ایسی محبت ہو گئی کہ اس کو آپ کے بغیر چین نہ آتا اور بہت سے انعام واکرام سے سلوک کرتا۔جب امیر عبدالرحمن خان کو خبر ملی تو اس نے بھی انعاما آپ کے لئے گیارہ سو روپیہ مقرر کر دیا۔صاحبزادہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مجھے بڑے بڑے حاکموں اور گورنروں سے بہت نفرت ہے کہ یہ لوگ ظلمت میں رہتے ہیں اور لوگوں پر ظلم کرتے ہیں۔میں اگر شر ندل خان گورنر کے ساتھ رہتا ہوں تو محض اس لئے کہ یہ غریب لوگوں پر ظلم کرتا ہے۔میں ان غریبوں کو اس کے ظلم و ستم سے بچاتا ہوں تا کہ یہ لوگ اس کے پنجہ ظلم کے نیچے نہ آجاویں۔صاحبزادہ صاحب ایک ایسے پر حکمت انسان تھے کہ گورنر کو آپ سے یہ بہت بڑا فائدہ پہنچا کہ منگل - جدران - تنی یہ تین قومیں ایسی زبر دست تو میں تھی کہ کبھی رعایا بن کر نہیں رہتی تھیں۔لیکن آپ نے ایسی حکمت سے کام لیا کہ بلا چون و چرا یہ تمام قو میں رعایا بنا کر گورنر کے حوالہ کر دیں۔بعض وقت ایسا ہوتا تھا کہ کہیں لڑائی میں کسی قسم کا حکم فوج کو دینا منظور ہوتا تو گورنر حیران ہو جاتا کہ اس موقعہ پر کیا حکم ہوا۔اُس وقت صاحبزادہ صاحب فوج کو فوراً موقع کے مطابق حکم دیتے کہ گورنر کی عقل حیران رہ جاتی۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک موقعہ پر ایک تنگ درہ پر گورنر کی فوج اتری ہوئی تھی۔ایک 61