حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 51 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 51

خوشئے پہنچ گیا۔الحمد للہ علی ذالک۔رات کو ایک مسجد میں بسیرا کیا۔یہ راستہ طے کرنا بہت مشکل تھا جو خدا نے مجھ سے طے کرایا۔اسی روز میں کابل پہنچ کر حاجی باشی کے پاس دو روز تک رہا۔اور اس کے ذریعہ سے خرچ صاحبزادہ صاحب کو پہنچادیا۔حاجی صاحب صاحبزادہ صاحب کے خاص دوست تھے۔وہاں سے میں اپنے گھر واپس آیا۔جو قریبا تمیں کوس کے فاصلہ پر ہے۔۔۔میرا مقام جو ہے وہ سرحدار یوب اور قوم یونی (یعنی دیوانہ ) گاؤں جدران دریا کے کنارے پر آباد ہے۔میرے والد صاحب کا نام اللہ نور ہے اور قوم سے سید ہوں۔میرے والد صاحب بھی بے نظیر انسان تھے۔وہ اپنے وقت میں کہا کرتے تھے کہ یہ ملک ظلمت ہے۔تم مشرق کی طرف جاؤ وہاں آسمان سے ایک نور نازل ہوا ہے۔تم لوگ یہاں سے چلے جاؤ گے۔کاش میں بھی اس وقت زندہ ہوتا تو میں بھی جاتا۔اب پھر وہی مضمون جاری ہے۔تخیل ایک مقام ہے وہاں کے تاجر عام طور پر کابل جایا کرتے ہیں۔وہاں میں معلوم کرنے کے لئے گیا۔ان سے معلوم ہوا کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب سنگسار ہو گئے ہیں اور ایک درخت کی مانند ان پر پتھر کے ڈھیر پڑے ہیں۔تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ کوئی بات نہیں۔یا تو میں بھی ان کی مانند سنگسار ہو جاؤں گا اور یا خواہ ان کو نکال لاؤں گا خواہ ایک کے بدلے دو درخت کی مانند پتھر ہوں۔پھر میں نے کابل کی روانگی کا ارادہ کیا۔جب شیخیل پہنچا تو وہاں کے حاکم نے مجھے کہا کہ تم گھر چلے جاؤ۔ورنہ تمہیں سزا ملے گی۔میں نے کہا میں نہیں جا تا۔تب انہوں نے مجھ سے دو سو روپیہ کی ضمانت لی چھوڑ دیا۔میں اس راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ سے کابل پہنچا۔وہاں بعض دوستوں سے ذکر کیا کہ میں اس کام کے لئے آیا ہوں اور کہا کہ صاحبزادہ صاحب مرحوم کی سنگساری کی جگہ کون سی ہے۔وہ لوگ بہت ڈرے اور مجھے کہا کہ ہند وسوزاں میں ہے 251