حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 40 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 40

فرمایا کہ چلو تمہاری بیعت کرا آئیں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا کہ اچھا تھوڑے دن ٹھہر جاؤ تو شہید مرحوم نے عرض کیا کہ اس آدمی کے ٹھہرنے کی ضرورت نہیں آپ اس کی بیعت لے لیں سو اس وقت میری بھی بیعت لی گئی۔شہید مرحوم کئی ماہ یہاں ٹھہرے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ جب ہم سیر کو جایا کرتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر سے واپس آکر گھر میں داخل ہوتے تو شہید مرحوم اپنے کپڑے گرد و غبار سے صاف نہیں کرتے تھے جب تک ذرا ٹھہر نہ جائیں اور اندازہ نہ لگالیں کہ اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے کپڑے جھاڑ لئے ہوں گے۔شہید مرحوم کو الہام اور بکثرت صحیح کشف بھی ہوتے تھے۔ایک روز مہمان خانہ میں سوئے ہوئے تھے کہ یک لخت اُٹھ بیٹھے اور یہ الہام ہوا۔جِسْمُهُ مُنَوَّرٌ مُعَمَّرٌ مُعَطَّرٌ يُضِيْئُ مَا اللُّؤْلُوْءِ الْمَكْنُونِ نُوْرٌ عَلَى اور یہ بھی کہا کہ یہ نور ہمارے اختیار میں ہے۔چنانچہ ایک روز مولوی عبدالستار صاحب کو کہا۔کہ میرے چہرہ کی طرف دیکھو اور جھک گئے۔مولوی صاحب دیکھنے لگے تو نہ دیکھ سکے۔آنکھیں نیچی ہو گئیں۔پھر جب شہید مرحوم سیدھے ہو گئے تو مولوی صاحب نے دیکھا اور سبحان اللہ سبحان اللہ پڑھنا شروع کیا۔وزیریوں کے مولوی صاحب نے کہا تم نے کیا دیکھا ہے مولوی صاحب ہنسے اور کہا کہ بہت کچھ دیکھا ہے۔اور یہ بھی کہا کہ جب میں نے آپ کے چہرے کی طرف دیکھا تو ان کے چہرہ کی چمک نے جو کہ سورج کی مانند تھی میری نظر کو چندھیا دیا اور نیچے کر دیا اور پھر جب انہوں نے سر اُٹھایا تو میں دیکھنے کے قابل ہوا۔اور دیکھا۔شہید مرحوم نے وزیروں کے مولوی صاحب کو کہا کہ تم میں تقویٰ کم ہے۔اس لئے تم نے نہیں دیکھا۔40