حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 37 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 37

موصوف کو بھی بلا بھیجا کہ میری بیعت کرو۔آپ نے فرمایا کہ میں اس شرط پر بیعت کروں گا کہ آپ شریعت کے خلاف کچھ نہیں کریں گے۔آپ کو شاہی دستار باندھنے کے لئے تبر کا بلایا گیا تھا۔جب دستار کے دو تین پیچ باندھنے رہ گئے تو قاضی القضاء نے عرض کیا کہ کچھ پیچ میرے لئے بھی رکھے جائیں تا کہ میں بھی کچھ برکت حاصل کرلوں۔سو ایسا ہی ہوا کہ کچھ پیچ دستار کے قاضی نے باندھے۔پھر کچھ مدت کے بعد آپ نے اپنے اہل وعیال کو خوست بھیجا۔اور مجھے بھی ان کے ساتھ بھیج دیا۔دو تین ماہ کے بعد آپ نے امیر سے حج کے لئے جانے کی اجازت مانگی۔امیر نے خوشی سے آپ کو اجازت دی اور کئی اونٹ اور گھوڑے آپ کے ساتھ کئے اور کچھ نقد بھی دیا۔آپ خوست آکر حج کی نیت سے بنوں کے راستہ سے ہندوستان کی طرف آئے۔اٹک کے پرے لگی مقام پر ایک آدمی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں گفتگو ہوئی۔وہ آدمی صاحب علم تھا۔اس کے بشرہ سے ایسا ظاہر ہوتا تھا کہ جیسے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان لیا ہے اور ایک قسم کی خوشی اس نے ظاہر کی۔اس خبر اور اس خوشی کو محسوس کر کے شہید مرحوم نے اپنی سواری کا گھوڑا اس کو بخش دیا۔شہید مرحوم جس وقت انگریزوں کے ساتھ سرحد کی تقسیم میں مصروف تھے۔ایک شخص آیا اور آپ کو ایک کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دی۔آپ وہ کتاب لے کر بہت خوش ہوئے اور کچھ انعام جیب سے نکال کر دیا۔جب آپ نے وہ کتاب پڑھی تو بہت پسند کی اور اپنے مہمان خانہ میں اپنے خاص آدمیوں کو سنا کرفرمایا کہ یہ وہی شخص ہے جس کے انتظار میں دنیا لگ رہی تھی اور اب وہ آ گیا ہے۔اور فرمایا کہ میں نے ہر طرف دیکھا کہ زمانہ گوصلح کا ہے لیکن مجھے کوئی مصلح نظر نہ آیا تو میں نے اپنی حالت کو دیکھا۔تمام قرآن شریف اپنے حقائق و معارف مجھ پر ظاہر کرتا ہے اور کبھی کبھی مجسم بن کر اپنے معانی بتاتا ہے۔تب میرے دل میں خیال پیدا ہوا۔کہ شاید خدا تعالیٰ مجھے ہی مصلح کر کے کھڑا کر لگا۔لیکن اس کتاب کے دیکھنے 37