حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 11 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 11

ہونا شروع کر دیا۔راویوں نے بیان کیا ہے کہ جب شہید مرحوم کابل کے بازار سے گزرے تو گھوڑے پر سوار تھے اور ان کے پیچھے آٹھ سرکاری سوار تھے اور ان کی تشریف آوری سے پہلے عام طور پر کابل میں مشہور تھا کہ امیر صاحب نے اخوندزادہ صاحب کو دھوکہ دیکر بلایا ہے۔اب بعد اس کے دیکھنے والوں کا یہ بیان ہے کہ جب اخوندزادہ صاحب مرحوم بازار سے گزرے تو ہم اور دوسرے بہت سے بازاری لوگ ساتھ چلے گئے۔اور یہ بھی بیان کیا کہ آٹھ سرکاری سوارخوست سے ہی ان کے ہمراہ کئے گئے تھے۔کیونکہ اُن کے خوست پہنچنے سے پہلے حکم سرکاری ان کے گرفتار کرنے کے لئے حاکم خوست کے نام آچکا تھا۔غرض جب امیر کے روبرو پیش کئے گئے تو مخالفوں نے پہلے سے ہی ان کے مزاج کو متغیر کر رکھا تھا۔اس لئے وہ بہت ظالمانہ جوش سے پیش آئے۔اور حکم دیا کہ مجھے ان سے بو آتی ہے۔ان کو فاصلہ پر کھڑا کرو۔پھر تھوڑی دیر کے بعد حکم دیا کہ ان کو اس قلعہ میں جس میں خود امیر صاحب رہتے ہیں قید کر دو اور زنجیر غراغراب لگا دو۔یہ زنجیر وزنی ایک من چوبیس سیر انگریزی کا ہوتا ہے۔کمر سے گردن تک گھیر لیتا ہے اور اس میں ہتھکڑی بھی شامل ہے۔اور نیز حکم دیا کہ پاؤں میں بیٹری وزنی آٹھ سیر انگریزی کی لگا دو۔پھر اس کے بعد مولوی صاحب چار مہینہ میں قید رہے اور اس عرصہ میں کئی دفعہ ان کو امیر کی طرف سے فہمائش ہوئی کہ تم اگر اس خیال سے تو بہ کرو کہ قادیانی در حقیقت مسیح موعود ہے تو تمہیں رہائی دی جائے گی۔مگر ہر مرتبہ انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں صاحب علم ہوں۔اور حق و باطل کی شناخت کرنے کی خدا نے مجھے قوت عطا کی ہے۔میں نے پوری تحقیق سے معلوم کر لیا ہے کہ یہ شخص در حقیقت مسیح موعود ہے۔اگر چہ میں جانتا ہوں کہ میرے اس پہلو کے اختیار کرنے میں میری جان کی خیر نہیں ہے۔اور میرے اہل وعیال کی بربادی ہے۔مگر میں اس وقت اپنے ایمان کو اپنی جان اور ہر ایک دنیوی راحت پر مقدم سمجھتا ہوں۔شہید مرحوم نے نہ ایک دفعہ بلکہ قید ہونے کی حالت میں بارہا یہی جواب دیا۔اور یہ قید انگریزی قید کی طرح نہیں تھی جس میں انسانی کمزوری کا کچھ کچھ لحاظ رکھا جاتا 11