حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 6
حالت میں کب چاہتا ہے کہ اپنی جان دے دے۔اور اپنی بیوی اپنے بچوں کو تباہی میں ڈالے۔پھر عجب تریہ کہ یہ بزرگ معمولی انسان نہیں تھا۔بلکہ ریاست کا بل میں کئی لاکھ کی ان کی اپنی جاگیر تھی اور انگریزی عملداری میں بھی بہت سی زمین تھی۔اور طاقت علمی اس درجہ تک تھی کہ ریاست نے تمام مولویوں کا ان کو سر دار قرار دیا تھا وہ سب سے زیادہ عالم علم قرآن اور حدیث اور فقہ میں سمجھے جاتے تھے اور نئے امیر کی دستار بندی کی رسم بھی انہیں کے ہاتھ سے ہوتی تھی۔اور اگر امیر فوت ہو جائے تو اس کے جنازہ پڑھنے کے لئے بھی وہی مقر رتھے۔یہ وہ باتیں ہیں جو ہمیں معتبر ذریعہ سے پہنچی ہیں۔اور ان کی خاص زبان سے میں نے سنا تھا کہ ریاست کابل میں پچاس ہزار کے قریب ان کے معتقد اور ارادتمند ہیں جن میں سے بعض ارکان ریاست بھی تھے غرض یہ بزرگ ملک کابل میں ایک فرد تھا۔اور کیا علم کے لحاظ سے اور کیا تقویٰ کے لحاظ سے اور کیا جاہ اور مرتبہ کے لحاظ سے اور کیا خاندان کے لحاظ سے اس ملک میں اپنی نظیر نہیں رکھتا تھا۔اور علاوہ مولوی کے خطاب کے صاحبزادہ اور اخوان زادہ اور شہزادہ کے لقب سے اس ملک میں مشہور تھے۔اور شہید مرحوم ایک بڑا کتب خانہ حدیث اور تفسیر اور فقہ کا اپنے پاس رکھتے تھے۔اور نئی کتابوں کے خریدنے کے لئے ہمیشہ حریص تھے اور ہمیشہ درس و تدریس کا شغل جاری تھا۔اور صد ہا آدمی ان کی شاگردی کا فخر حاصل کر کے مولویت کا خطاب پاتے تھے۔لیکن بایں ہمہ کمال یہ تھا کہ بے نفسی اور انکسار میں اس مرتبہ تک پہنچ گئے تھے کہ جب تک انسان فنافی اللہ نہ ہو۔یہ مرتبہ نہیں پاسکتا۔ہر ایک شخص کسی قدر شہرت اور علم سے محجوب ہو جاتا ہے۔اور اپنے تئیں کچھ چیز سمجھنے لگتا ہے اور وہی علم اور شہرت حق طلبی سے اس کو مانع ہو جاتی ہے۔مگر یہ شخص ایسا بے نفس تھا کہ باوجود یکہ ایک مجموعہ فضائل کا جامع تھا مگر تب بھی کسی حقیقت حقہ کے قبول کرنے سے اس کو اپنی علمی اور عملی اور خاندانی وجاہت مانع نہیں ہوسکتی تھی اور آخر سچائی پر اپنی ان قربان کی اور ہماری جماعت کے لئے ایک ایسا نمونہ چھوڑ گیا جس کی پابندی اصل 6