حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 5 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 5

تھے۔سوچونکہ ان میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ایسے خلیفہ تھے جو موسوی سلسلہ کے آخر میں پیدا ہوئے۔اور نیز وہ ایسے خلیفے تھے کہ جو لڑائی کے لئے مامور نہیں ہوئے تھے۔اس لئے خدا تعالیٰ کے کلام سے ضرور یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کے رنگ پر بھی اس امت میں آخری زمانہ میں کوئی پیدا ہو۔اسی طرح بہت سے کلمات معرفت اور دانائی کے ان کے منہ سے میں نے سنے جو بعض یادر ہے اور بعض بھول گئے اور وہ کئی مہینہ تک میرے پاس رہے۔اور اس قدران کو میری باتوں میں دلچسپی ہوئی کہ انہوں نے میری باتوں کو حج پر ترجیح دی اور کہا کہ میں اس علم کا محتاج ہوں جس سے ایمان قوی ہو اور علم عمل پر مقدم ہے سو میں نے ان کو مستعد پا کر جہاں تک میرے لئے ممکن تھا اپنے معارف ان کے دل میں ڈالے۔۔۔۔۔۔۔۔مولوی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب جب قادیان میں آئے تو صرف اُن کو یہی فائدہ نہ ہوا کہ انہوں نے مفصل طور پر میرے دعوی کے دلائل سنے بلکہ ان چند مہینوں کے عرصہ میں جو وہ قادیان میرے پاس رہے اور ایک سفر جہلم تک بھی میرے ساتھ کیا۔بعض آسمانی نشان بھی میری تائید میں انہوں نے مشاہدہ کئے۔ان تمام براہین اور انوار اور خوارق کو دیکھنے کی وجہ سے وہ فوق العادت یقین سے بھر گئے اور طاقت بالا ان کو کھینچ کر لے گئی۔۔۔۔۔۔ابھی وہ اسی جگہ تھے کہ بہت سے یقین اور بھاری تبدیلی کی وجہ سے ان پر الہام اور وحی کا دروازہ کھولا گیا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے کھلے لفظوں میں میری تصدیق کے بارے میں انہوں نے شہادتیں پائیں جن کی وجہ سے آخر کار انہوں نے اس شہادت کا شربت اپنے لئے منظور کیا جس کے مفصل لکھنے کے لئے اب وقت آ گیا ہے۔یقیناً یا درکھو کہ جس طرز سے انہوں نے میری تصدیق کی راہ میں مرنا قبول کیا۔اس قسم کی موت اسلام کے تیرہ سو برس کے سلسلہ میں بجز نمونہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور کسی جگہ نہیں پاؤ گے۔پس بلا شبہ اس طرح ان کا مرنا اور میری تصدیق میں نفذ جان خدا تعالیٰ کے حوالہ کرنا یہ میری سچائی پر ایک عظیم الشان نشان ہے۔مگر ان کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔انسان شک وشبہ کی 5