حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 102
حرف آخر شہدائے کابل کا عالی مقام (سید نا حضرت فضل عمر ) بڑی عید یہی ہے جو قربانیوں اور تکالیف کی ہے۔وہ چھوٹی ہے جس میں بادشاہتیں اور حکومتیں ملتی ہیں خدا کے انعام نام ہیں قربانی کا۔ہمارے لئے تخت حکومت سولی کا تختہ ہے۔وہی ہماری حکومت ہے اور وہ تمام تکالیف جو ہمیں دی جاتی ہیں انہیں میں ہمارے لئے فخر ہے کیا تم سمجھتے ہو کہ جن لوگوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں جانیں دیں انہوں نے عید نہیں دیکھی۔آج وہ سامنے نہیں ہیں ورنہ تم دیکھتے کہ ان کے چہروں پر ایسے آثار ہوتے تھے جو ظاہری عید منانے والوں کے چہروں پر ہو ہی نہیں سکتے۔جو جان دے دیتا تھا وہ یہی سمجھتا تھا کہ میری عید آ گئی۔اسی لئے انہیں شہید کیا گیا ہے۔کہ وہ عید کا چاند دیکھتے ہوئے مرے۔ہر مومن جو دین کے لئے فدا ہوتا ہے وہ عید دیکھتا ہے۔یہی عید اضحیہ ہوتی ہے۔یہی انبیاء کے زمانہ کا نشان ہے اور اسی لئے ہمیں پیدا کیا گیا ہے۔پس آؤ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اس کے نام کو بلند کریں کہ اس نے ہمیں اس عید کی توفیق دی جو سب سے بڑی عید ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے اترتے اور بادشاہوں کو تختوں سے اتار کر ہمیں ان کی جگہ بٹھا دیتے تو ان گالیوں کے مقابلہ میں وہ چیز بالکل حقیر ہوتی۔جن شہداء نے افغانستان میں جانیں دیں۔ان کی عزت چین جاپان 102