حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 82 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 82

رائے میں قطعی طور پر حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب ہیں۔شعبہ تاریخ احمدیت کی طرف سے مزید تحقیق جاری ہے۔“ کتاب کی اشاعت کے بعد بھی تصویر پر تحقیق کا سلسلہ برابر جاری رہا حیات قدسی حصہ چہارم صفحہ ۳۱ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب جب ۱۹۰۲ء کے آخر میں قادیان تشریف لے گئے تو حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی قادیان میں ہی تھے اور حسنِ اتفاق سے مہمان خانہ کے اسی کمرہ میں فروکش تھے جس میں حضرت صاحبزادہ صاحب اپنے خاص تلاندہ یعنی حضرت مولوی عبد الستار المعروف بزرگ صاحب“۔سید احمد نور صاحب کا بلی، مولوی عبدالجلیل صاحب وغیرہ کے ساتھ رونق افروز رہے۔شعبہ تاریخ کی طرف سے حضرت مولانا راجیکی صاحب سے خصوصی رابطہ کیا گیا مگر پیرانہ سالی اور بعض دیگر عوارض کے باعث آپ کچھ راہنمائی نہ فرما سکے۔حضرت قاضی محمد یوسف صاحب (امیر صوبہ سرحد ) کو بھی یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ بھی ان ایام میں مہمان خانہ قادیان میں ہی قیام فرما تھے اور ان کا کمرہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی جائے قیام سے بالکل متصل تھا مگر افسوس حضرت قاضی صاحب تصویر کی اشاعت کے بعد صرف چند دن زندہ رہے اور ۴ /جنوری ۱۹۶۳ء کو انتقال فرما گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔بعد ازاں حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی نے بذریعہ تحریر اس ناچیز کو تو جہ دلائی کہ حضرت مولوی محمد دین صاحب (سابق مبلغ امریکہ ) نے بھی حضرت صاحبزادہ صاحب کی زیارت کی تھی۔اُن سے دریافت کیا جائے۔چنانچہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ اس وقت دفتر نظارت علیا کے سامنے برآمدہ میں ایک کرسی پر بیٹھے تھے۔آپ نے تصویر پر ایک گہری نظر ڈالی اور فرمایا میرے ذہن میں ۰۳-۱۹۰۲ء سے آج تک حضرت صاحبزادہ صاحب کے جو نقوش قائم ہیں یہ تصویر بالکل ان کے مطابق ہے۔82