حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 80 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 80

حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی تصویر کے بارہ میں دنیا بھر کے احمدی سکالرز کی خدمت میں دردمندانہ اپیل افغان قوم دنیا کی ایک قدیم اور تاریخی قوم ہے۔جس میں حضرت داتا گنج بخش شیخ علی بن عثمان ہجویری ولادت ۱۰۰۹ ء وفات ۱۰۷۲ء)، حضرت خواجہ باقی باللہ (ولادت ۱۵۶۴ء وفات ۱۶۰۳ء) حضرت مجددالف ثانی (ولادت ۱۵۶۴ء وفات ۱۶۲۴ء) اور حضرت آدم بنوری ( ولادت ۱۵۰۶ء وفات ۱۶۴۴ ء ) جیسے عارف بزرگ اہل اللہ اور علماء و مشائخ پیدا ہوئے۔حضرت صاحبزادہ مولوی سید عبداللطیف صاحب رئیس اعظم خوست حضرت داتا گنج بخش کے خانوادہ سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۳ ء مطابق ۱۸ ربیع الثانی ۱۳۲۱ ھجری کو اپنے مقدس لہو سے دینِ حق کی آبیاری کی اور اس کی حقانیت پر مہر ثبت کر کے ایک دائی نمونہ قائم کر دیا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں: ” جیسا کہ اُن کا چہرہ نورانی تھا ایسا ہی اُن کا دل مجھے نورانی معلوم ہوتا تھا۔“ ( تذکرۃ الشہا دتین صفحه ۸) اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل کرم اور سید نا حضرت فضل عمر کی روحانی توجہ کی برکت سے ایسا غیبی سامان فرمایا کہ عین ایسے مرحلے پر جبکہ تاریخ احمدیت کی تیسری جلد زیر تدوین و اشاعت تھی لندن کے انڈیا آفس سے ڈیورنڈ لائن کمیشن (۱۹ ستمبر تا ۱۴ نومبر ۱۸۹۳ء) کے دو گروپ فوٹو یکا یک مہیا ہو گئے۔اس کمیشن میں امیر عبدالرحمن خان نے اپنے چچا زاد بھائی شیر ندل خان گورنر خوست اور حضرت صاحبزادہ صاحب کو نمائندہ مقرر کیا۔تصویر میں 80%