حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 39
مال و اسباب ضبط کیا جاوے اور اس کے تمام اہل وعیال کو یہاں بھیج دیا جائے۔جب مال و اسباب ضبط ہو گیا اور اہل و عیال کو کا بل بھیجا گیا۔تو عبدالرحمن شہید خود امیر کے پاس چلا گیا۔امیر نے پوچھا کہ تم غیر علاقہ میں کیوں چلے گئے تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ سرکار کی خدمت کے لئے قادیان گیا تھا۔اور جس شخص نے دعوی مسیحیت کا کیا ہے اس کی کتابیں آپ کے لئے اپنے ساتھ لایا ہوں۔امیر نے ان سے کتابیں لے کر ان کو قید میں بھیج دیا۔اس کے بعد کچھ معلوم نہیں ہوا کہ وہ کہاں گئے اور کیا حال ان کا ہوا۔یا اندر ہی غائب ہو گئے۔اللہ ہی بہتر جانے والا ہے اور افواہ اس کی یہ ہے کہ ان کے منہ پر تکیہ رکھ کر ان کا سانس بند کر کے مار دیا گیا۔امیر کوخبر پہنچنے کی وجہ یہ تھی کہ جب شہید مرحوم کو حضرت اقدس مسیح موعود کی کتاب ملی تو شہید مرحوم نے تمام افسروں اور حاکموں اور چھوٹوں بڑوں کو خبر کر دی۔کہ اس طرح قادیان میں مصلح آیا ہے چنانچہ ان پر کفر کے بڑے بڑے فتوے بھی لگ گئے۔شہید مرحوم کا قادیان آنا شہید مرحوم چند احباب کے ساتھ قادیان آئے ان میں سے ایک کا نام مولوی عبدالستار صاحب ہے۔دوسرے کا نام مولوی عبد الجلیل صاحب اور تیسرے کو وزیریوں کا مولوی کہا جا تا تھا۔میں ان دنوں کچھ روز کے لئے اپنے گھر چلا گیا تھا۔وہاں معلوم ہوا کہ شہید مرحوم حج کو چلے گئے ہیں۔میرا گھر سید گاہ سے شمال کی طرف ۳۰ کوس کے فاصلہ پر گرم کی سرحد پر ہے۔میرے والد صاحب کا نام اللہ نور ہے۔یہ سنتے ہی میں وہاں سے چل پڑا۔چونکہ مجھے علم تھا کہ شہید مرحوم پہلے قادیان ضرور ٹھہریں گے۔اس لئے یہ سنتے ہی میں بھی جلد روانہ ہو گیا۔اور ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ شہید مرحوم کے قادیان پہنچنے کے بعد آ پہنچا۔جب میں شہید مرحوم کے پاس پہنچا تو وہ بہت خوش ہوئے اور مجھے پکڑ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس لے گئے اور 39