حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 36 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 36

مختلف چند گاؤں تھے جن کے آپ مالک تھے بہت زمین بنوں میں انگریزوں کی حکومت میں بھی تھی۔آپ نے تعلیم ہندوستان میں حاصل کی تھی۔تمام علوم مروجہ کے عالم تھے۔ہر وقت قرآن شریف اور احادیث کا درس آپ کے یہاں جاری تھا۔کئی ہزار حدیثیں آپ کو از بریاد تھیں۔چنانچہ امیر عبدالرحمن وائی کا بل بھی قائل تھا۔کہ ہمارے ملک میں میرا ایک عالم باعمل شخص ہیں جن کو اتنی حدیثیں یاد ہیں۔جو بھی کابل کا گورنرخوست کے لئے مقرر ہوتا آپ کا تابعدار اور آپ کے پہلو میں بچہ کی طرح رہتا۔آپ بندوق چلانے کے بہت مشتاق اور خوب ماہر تھے۔آپ کو گیارہ سو روپیہ سرکار کی طرف سے سالانہ ملتے تھے۔امیر نے آپ کو گورنر کے ساتھ سرحد پاڑہ چنار اور خوست کی تقسیم میں انگریزوں کے ساتھ مقرر کیا تھا۔اکثر اوقات انگریزوں سے تقسیم میں شامل ہوتے تھے۔امیر عبدالرحمن خان نے اپنی اخیر عمر میں آپ کو کابل شہر میں اہل وعیال کے ساتھ بلایا تھا۔وہاں چند سال رہائش کی۔قرآن شریف اور حدیث شریف کا درس حسب معمول جاری رہا۔میں بھی آپ کے ساتھ کا بل میں تھا۔ایک دفعہ طالب علموں نے عرض کی کہ آپ جب کچھ فرماتے ہیں تو احمد نور کی طرف کیوں مخاطب ہوتے ہیں اور ہماری طرف کبھی بھی مخاطب نہیں ہوتے۔آپ فرماتے یہ رفیق ہمارا ہے۔اور یہ درس مرزا محمد حسین خان ( جو بڑا گورنر امیر عبدالرحمن خان کا تھا ) کی مسجد میں ہوا کرتا تھا۔اور آپ نے یہ بھی طلباء سے فرمایا کہ احمد نور کی یہ حالت ہے کہ جب بخاری شریف شروع کی جاتی ہے تو یہ ایک وادی کی شکل بن جاتا ہے اور حدیث پانی کی طرح اس کے اندر چلی جاتی ہے اس لئے اس کو مخاطب کرتا ہوں۔امیر عبدالرحمن خان صاحب جب فوت ہو گئے تو ان کے بیٹے حبیب اللہ خان تخت کے وارث ہوئے جب تمام لوگ امیر کی بیعت کے لئے آئے تو حضرت صاحبزادہ صاحب 36