حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 35
بسم اللہ الرحمن الرحیم نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ جو حالات میرے چشم دید ہیں اور جو آپ کی مجلس میں بیٹھ کر میں نے معلوم کئے ان کو میں قلمبند کرتا ہوں۔وباللہ التوفیق۔حضرت مولانا صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید رحمہ اللہ تعالیٰ عنہ ملک خوست شمل دریا کے کنارے پر ایک گاؤں کے جس کا نام سید گاہ ہے رہنے والے تھے۔آپ قوم کے سید تھے۔آپ کے تمام آبا ؤ اجداد اپنے ملک میں رئیس اعظم تھے۔اور آپ کی عمر قریبا ساٹھ اور ستر کے درمیان تھی۔آپ بڑے مہمان نواز تھے۔آپ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت محبت اور دلچسپی رکھتے تھے۔چنانچہ ہم آپ کے مہمان خانہ میں تمہیں چالیس آدمی رہتے تھے۔ہر وقت دین کی باتوں میں مشغول رہتے تھے۔کھانے وغیرہ کا انتظام بھی آپ کی طرف سے ہوتا تھا۔آپ کی ایک مردانہ بیٹھک تھی جس میں قریبا سود و سو آدمی آسکتے تھے اور یہ بیٹھک مسجد کے پہلو میں تھی۔پہلے لوگ نماز کے لئے جمع ہوتے تو اس بیٹھک میں قیام ہوتا اور دین کے متعلق باتیں ہوا کرتیں تھیں۔جس وقت نماز کا وقت آجا تا لوگ جمع ہو جاتے تو تمام لوگ مسجد میں آجاتے نماز کے بعد لوگ اپنے گھر چلے جاتے۔مسجد میں نماز سے پہلے اور بعد کوئی بات چیت نہ ہوتی تھی۔مسجد کے احاطے میں حجرے بنے ہوئے تھے جن میں آپ کے شاگر درہا کرتے تھے۔مسجد کے پاس شمال کی طرف مغرب سے مشرق کو ایک نہر تھی جو آپ کے گھر کے صحن میں سے ہو کر گزرتی تھی۔آپ کے رہنے کی جگہ کو سید گاہ کہا جاتا تھا جو معروف بہ سید گاہ ہے۔کبھی ملک میں قحط سالی آتی تو اپنے تمام علہ کو فروخت کر کے غریب لوگوں کی امداد میں لگا دیتے۔خوست میں 35%