حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 15
لئے منتخب کئے گئے۔اور ایک لاہوری ڈاکٹر جو خود پنجابی ہونے کی وجہ سے سخت مخالف تھا بطور ثالث کے مقرر کر کے بھیجا گیا۔بحث کے وقت مجمع کثیر تھا اور دیکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم اس بحث کے وقت موجود تھے۔مباحثہ تحریری تھا۔صرف تحریر ہوتی تھی۔اور کوئی بات حاضرین کو سنائی نہیں جاتی تھی۔اس لئے اس مباحثہ کا کچھ حال معلوم نہیں ہوا۔سات بجے صبح سے تین بجے سہ پہر تک مباحثہ جاری رہا۔پھر جب عصر کا آخری وقت ہوا تو کفر کا فتویٰ لگایا گیا۔اور آخر بحث میں شہید مرحوم سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر مسیح موعود یہی قادیانی شخص ہے تو پھر تم عیسی علیہ السلام کی نسبت کیا کہتے ہو۔کیا وہ واپس دنیا میں آئیں گے یا نہیں۔تو انہوں نے بڑی استقامت سے جواب دیا۔کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔اب وہ ہرگز واپس نہیں آئیں گے قرآن کریم ان کے مرنے اور واپس نہ آنے کا گواہ ہے۔تب تو وہ لوگ ان مولویوں کی طرح جنہوں نے حضرت عیسی کی بات کو سن کر اپنے کپڑے پھاڑ دیئے تھے۔گالیاں دینے لگے۔اور کہا اب اس شخص کے کفر میں کیا شک رہا۔اور بڑی غضبناک حالت میں یہ کفر کا فتویٰ لکھا گیا۔پھر بعد اس کے اخوند زادہ حضرت شہید مرحوم اسی طرح پا بز نجیر ہونے کی حالت میں قید خانہ میں بھیجے گئے اور اس جگہ یہ بات بیان کرنے سے رہ گئی ہے کہ جب شہزادہ مرحوم کی ان بدقسمت مولویوں سے بحث ہورہی تھی۔تب آٹھ آدمی بر ہنہ تلواریں لیکر شہید مرحوم کے سر پر کھڑے تھے۔پھر بعد اس کے وہ فتویٰ کفر رات کے وقت امیر صاحب کی خدمت میں بھیجا گیا۔اور یہ چالا کی کی گئی۔کہ مباحثہ کے کاغذات ان کی خدمت میں عمدا نہ بھیجے گئے اور نہ عوام پر ان کا مضمون بیان کیا گیا۔یہ صاف اس بات پر دلیل تھی۔کہ مخالف مولوی شہید مرحوم کے ثبوت پیش کردہ کا کوئی رد نہ کر سکے۔مگر افسوس امیر پر کہ اُس نے فتویٰ پر ہی حکم لگا دیا۔اور مباحثہ کے کاغذات طلب نہ کئے۔حالانکہ اس کو چاہئے تو یہ تھا کہ اس عادل حقیقی سے ڈر کر جس کی طرف عنقریب تمام دولت و حکومت کو چھوڑ کر واپس جائے گا خود مباحثہ کے وقت حاضر ہوتا۔بالخصوص جبکہ وہ خوب جانتا تھا کہ اس مباحثہ کا نتیجہ ایک معصوم بے گناہ کی 15%