حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 7 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 7

منشاء خدا کا ہے۔اب ہم ذیل میں اس بزرگ کی شہادت کے واقعہ کو لکھتے ہیں کہ کس دردناک طریق سے وہ قتل کیا گیا اور اس راہ میں کیا استقامت اس نے دکھلا ئی کہ بجز کامل قوت ایمانی کے اس دار الغرور میں کوئی نہیں دکھلا سکتا۔اور بالآخر ہم یہ بھی لکھیں گے کہ ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا کیونکہ آج سے تئیس برس پہلے ان کی شہادت اور ان کے ایک شاگرد کی شہادت کی نسبت خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی تھی جس کو اسی زمانہ میں میں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں شائع کیا تھا۔سو اس بزرگ مرحوم نے نہ فقط وہ نشان دکھلایا جو کامل استقامت کے رنگ میں اُس سے ظہور میں آیا۔بلکہ یہ دوسرا نشان بھی اس کے ذریعہ سے ظاہر ہوگیا جو ایک مدت دراز کی پیشگوئی اس کی شہادت سے پوری ہوگئی جیسا کہ ہم انشاء اللہ اخیر میں اس پیشگوئی کو درج کریں گے۔واضح رہے کہ براہین احمدیہ کی پیشگوئی میں دو شہادتوں کا ذکر ہے اور پہلی شہادت میاں عبد الرحمن مولوی صاحب موصوف کے شاگرد کی تھی جس کی تکمیل امیر عبدالرحمن یعنی اس امیر کے باپ سے ہوئی۔اس لئے ہم بلحاظ ترتیب زمانی پہلے میاں عبدالرحمن مرحوم کی شہادت کا ذکر کرتے ہیں۔بیان شہادت میاں عبد الرحمن مرحوم شاگر د مولوی صاحبزاده عبد اللطیف صاحب رئیس اعظم خوست ملک افغانستان مولوی صاحبزادہ عبداللطیف صاحب مرحوم کی شہادت سے تخمینا دو برس پہلے اُن کے ایماء اور ہدایت سے میاں عبد الرحمن شاگرد و رشید ان کے قادیان میں شاید دو یا تین دفعہ آئے اور ہر یک مرتبہ کئی کئی مہینہ تک رہے اور متواتر صحبت اور تعلیم اور دلائل کے سننے سے ان کا ایمان شہداء کا رنگ پکڑ گیا۔اور آخری دفعہ جب کابل واپس گئے تو وہ میری تعلیم سے €7