حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 4 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 4

کی تفصیل میں کن الفاظ سے بیان کروں کہ وہ نوریقین میں دمبدم ترقی کرتا گیا اور جب وہ میرے پاس پہنچا تو میں نے اُن سے دریافت کیا کہ کن دلائل سے آپ نے مجھے شناخت کیا۔تو انہوں نے فرمایا کہ سب سے پہلے قرآن ہے جس نے آپ کی طرف میری رہبری کی اور فرمایا کہ میں ایک ایسی طبیعت کا آدمی تھا کہ پہلے سے فیصلہ کر چکا تھا کہ یہ زمانہ جس میں ہم ہیں۔اس زمانہ کے اکثر مسلمان اسلامی روحانیت سے بہت دور جا پڑے ہیں۔وہ اپنی زبانوں سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔مگر ان کے دل مومن نہیں اور ان کے اقوال اور افعال بدعت اور شرک اور انواع و اقسام کی معصیت سے پُر ہیں۔ایسا ہی بیرونی حملے بھی انتہاء تک پہنچ گئے ہیں۔اور اکثر دل تاریک پردوں میں ایسے بے حسن و حرکت ہیں کہ گویا مر گئے ہیں۔اور وہ دین اور تقویٰ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے جس کی تعلیم صحابہ رضی اللہ عنہم کودی گئی تھی۔اور وہ صدق اور یقین اور ایمان جو اس پاک جماعت کو ملا تھا بلا شبہ اب وہ باعث کثرت غفلت کے مفقود ہے اور شاذ نادر حکم معدوم کا رکھتا ہے۔ایسا ہی میں دیکھ رہا تھا کہ اسلام ایک مردہ کی حالت میں ہو رہا ہے۔اب وہ وقت آ گیا ہے کہ پردہ غیب سے کوئی منجانب اللہ مجد ددین پیدا ہو۔بلکہ میں روز بروز اس اضطراب میں تھا کہ وقت تنگ ہوتا جاتا ہے۔انہیں دنوں میں یہ آواز میرے کانوں تک پہنچی کہ ایک شخص نے قادیان ملک پنجاب میں مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا ہے۔اور میں نے بڑی کوشش سے چند کتابیں آپ کی تالیف کردہ بہم پہنچائیں۔اور انصاف کی نظر سے ان پر غور کر کے پھر قرآن کریم پر ان کو عرض کیا تو قرآن شریف کو ان کے ہر بیان کا مصدق پایا۔پس وہ بات جس نے پہلے پہلے مجھے اس طرف حرکت دی وہ یہی ہے کہ میں نے دیکھا کہ ایک طرف تو قرآن شریف بیان کر رہا ہے کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور واپس نہیں آئیں گے اور دوسری طرف وہ موسوی سلسلہ کے مقابل پر اس امت کو وعدہ دیتا ہے کہ وہ اس امت کی مصیبت اور ضلالت کے دنوں میں ان خلیفوں کے رنگ میں خلیفے بھیجتا رہے گا جو موسوی سلسلہ کے قائم اور بحال رکھنے کے لئے بھیجے گئے