حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 3 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 3

جاتے تھے۔اس لئے نہ صرف ان کو اجازت ہوئی بلکہ امداد کے طور پر کچھ روپیہ بھی دیا گیا۔سو وہ اجازت حاصل کر کے قادیان میں پہنچے اور جب مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی تو قسم اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔میں نے ان کو اپنی پیروی اور اپنے دعویٰ کی تصدیق میں ایسا فنا شدہ پایا کہ جس سے بڑھ کر انسان کے لئے ممکن نہیں۔اور جیسا کہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے ایسا ہی میں نے ان کو اپنی محبت سے بھرا ہوا پایا۔اور جیسا کہ ان کا چہرہ نورانی تھا ایسا ہی ان کا دل مجھے نورانی معلوم ہوتا تھا۔اس بزرگ مرحوم میں نہایت قابل رشک یہ صفت تھی کہ در حقیقت وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتا تھا اور در حقیقت ان راستبازوں میں سے تھا جو خدا سے ڈر کر اپنے تقویٰ اور اطاعت الہی کو انتہاء تک پہنچاتے ہیں اور خدا کے خوش کرنے کے لئے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنی جان اور عزت اور مال کو ایک ناکارہ خس و خاشاک کی طرح اپنے ہاتھ سے چھوڑ دینے کو تیار ہوتے ہیں اُس کی ایمانی قوت اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ اگر میں اس کو ایک بڑے سے بڑے پہاڑ سے تشبیہہ دوں تو میں ڈرتا ہوں کہ میری تشبیہ ناقص نہ ہو۔اکثر لوگ باوجود۔۔۔بیعت کے اور باوجود میرے دعویٰ کی تصدیق کے پھر بھی دنیا کو دین پر مقدم رکھنے کے زہریلے تم سے بکلی نجات نہیں پاتے بلکہ کچھ ملونی ان میں باقی رہ جاتی ہے۔اور ایک پوشیدہ نخل خواہ وہ جان کے متعلق ہو اور خواہ آبرو کے متعلق اور خواہ مال کے اور خواہ اخلاقی حالتوں کے متعلق ان کے نامکمل نفسوں میں پایا جاتا ہے۔اسی وجہ سے ان کی نسبت ہمیشہ میری یہ حالت رہتی ہے کہ میں ہمیشہ کسی خدمت دینی کے پیش کرنے کے وقت ڈرتا رہتا ہوں کہ ان کو ابتلاء پیش نہ آوے۔اور اس خدمت کو اپنے پر بوجھ سمجھ کر اپنی بیعت کو الوداع نہ کہہ دیں۔لیکن میں کن الفاظ سے اس بزرگ مرحوم کی تعریف کروں جس نے اپنے مال اور آبرو اور جان کو میری پیروی میں یوں پھینک دیا کہ جس طرح کوئی رڈی چیز پھینک دی جاتی ہے۔اکثر لوگوں کو میں دیکھتا ہوں کہ ان کا اوّل اور آخر برابر نہیں ہوتا اور ادنیٰ سی ٹھو کر یا شیطانی وسوسہ یا بدصحبت سے وہ گر جاتے ہیں۔مگر اس جواں مرد مرحوم کی استند €3