حضرت سلمان فارسی ؓ — Page 7
12 11 ابھی دوسری علامت بھی ذہن میں تھی اسلئے اگلی مرتبہ میں ایک تھال میں کچھ کھجوریں سجا کر پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ حضور میں نے دیکھا تھا کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے اسلئے آپ کی خاطر یہ تحفہ لے کر حاضر ہوا ہوں۔از راہ کرم اسے قبول فرمائیں۔یہ سن کر حضور ﷺ نے تحفہ قبول کیا اور خود بھی اس میں سے کھایا اور اپنے صحابہ کو بھی اس میں شامل کیا۔میں دل ہی دل میں ان علامتوں کے پورا ہونے پر بہت خوش تھا اور مجھے یوں لگ رہا تھا کہ میری منزل مجھے ملنے ہی والی ہے بس ایک آخری علامت جو مجھے میرے بزرگ نے بتائی تھی اسے دیکھنا باقی تھا اور پھر اگر وہ علامت بھی مل گئی تو گویا مجھے دنیا جہان کی خوشی مل گئی۔اور یہ علامت آپ کے کندھوں کے درمیان موجود یک نشان کی تھی۔حضرت رسول کریم ع کو مدینہ تشریف لائے ابھی تھوڑا سا ہی عرصہ ہوا علوم تھا کہ حضرت کلثوم بن الہدم النصاری وفات پاگئے۔آپ کے جنازے اور تدفین میں خود رسول خدا ﷺ نے بھی شرکت فرمائی تھی۔اور اس وقت رسول اللہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنت البقیع میں موجود تھے کہ میں بھی وہاں جا پہنچا اور حضور ﷺ کے نزدیک پیچ کر آپ کے جسم پر موجود چادروں میں سے وہ نشان تلاش کرنے کی کوشش کرنے لگا۔اور پھر ایک لمحے کے لئے چادر سر کی اور میں نے آپ کی کمر پر موجود وہ نشان دیکھ لیا جس کی مجھے تلاش تھی۔میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔میں حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر بے تحاشا رونے اور آپ کو چومنے لگا۔حضور نے جب یہ حالت دیکھی تو مجھے اپنے سامنے بٹھایا اور میری اس حالت کے بارے میں دریافت فرمایا۔میں نے اپنی درد بھری داستان سنانی شروع کی تو حضور اکرم ﷺ نے دیگر اصحاب کو بھی اس طرف متوجہ فرمایا اور کہا کہ خاموشی سے سیہ واقعات سنیں۔چنانچہ میں نے اپنی تمام داستان بیان کر دی۔اور رسول اللہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے مسلمان ہو گیا۔اب تو میری یہی خواہش تھی کسی طرح اپنے یہودی آقا سے آزادی حاصل کرلوں اور خود کو ظاہری اعتبار سے بھی حضور کی غلامی کے لئے پیش کر دوں لیکن اس خواہش کے پورا ہونے میں بہت وقت لگ گیا کیونکہ میرا یہودی مالک مجھے آزاد کرنے کے لئے تیار ہی نہ تھا اور اسی وجہ سے میں غزوہ بدر اور غزوہ احد میں بھی شامل نہ ہو سکا۔بالآخر رسول کریم ﷺ نے مجھے اپنے مالک سے مکاتبت کرنے کا مشورہ دیا جس کا مطلب یہ ہے کہ غلام اپنے آقا کو کچھ رقم دے دے یا اس کیلئے کوئی بڑا کام سرانجام دے تو وہ آزاد ہوسکتا ہے۔چنانچہ میں نے اپنے مالک سے مکاتبت کی بات کی تو وہ بہت بحث کے بعد بالآخر اس پر راضی ہوگیا اور یہ شرط لگائی کہ میں اپنے مالک کو تین سو کھجور کے درخت لگا کر دوں اور جب میں کھجور کا یہ باغ لگادوں گا تو میں آزاد ہو جاؤں گا۔میں قربان جاؤں اپنے آقا حضرت محمد مصطفی ہے کے آپ نے جب یہ امی