حضرت سلمان فارسی ؓ — Page 6
10 9 تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہجرت کر نیکی اجازت دے دی تھی۔حضور اکرم ﷺ اللہ تعالی کے حکم کے ماتحت حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ مکہ سے نکلے اور اللہ کی حفاظت میں سفر کرتے ہوئے بالآخر مدینہ منورہ سے چند میل دور واقع ایک بستی قباء میں پہنچے اور وہاں پڑاؤ فرمایا۔قباء سے تھوڑے ہی فاصلے ر بنو قریظلہ کا وہ نخلستان تھا جہاں میں اپنے یہودی آقا کی زمینوں پر کام کیا کرتا تھا۔اس روز بھی حسب دستور اپنے کام میں مصروف کھجور کے ایک درخت پر چڑھا ہوا کھجوریں تو ڑ رہا تھا۔میرا مالک درخت کے نیچے بیٹھا کام کی نگرانی کر رہا تھا۔اچانک میں نے دیکھا کہ میرے آقا کا ایک رشتہ دار تیز تیز قدم اٹھا تا ہوا ہماری جانب آیا اور انصار کے قبائل کو بُرا بھلا کہتے ہوئے میرے آقا کو بتانے لگا کہ وہ سب لوگ قباء میں ایک شخص کے پاس جمع ہیں جو خود کو خدا کا نبی کہتا ہے اور آج ہی مکہ سے یہاں پہنچا ہے۔اس شخص کے منہ سے ان فقرات کا سنا تھا کہ میں تو گویا خوشی سے دیوانہ ہو گیا۔مارے اشتیاق کے میرے جسم پر کپکپی طاری ہوگئی اور مجھے یوں لگا کہ میں درخت سے نیچے گر جاؤں گا۔میرا عجیب حال تھا مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں اور اپنے دل کی حالت کے بتاؤں۔جب مجھ سے برداشت نہ ہوا تو میں درخت سے نیچے اترا اور اپنے مالک کے رشتہ دار سے جو یہ خبر لایا تھا پو چھا کہ ابھی آپ کیا بتا رہے تھے ؟ میرے مالک نے جب میرا اشتیاق اور اضطراب دیکھا تو وہ غصے میں آ گیا اور مجھے ایک زور کا تھپڑ مار کر بولا تمہیں ان باتوں سے کیا غرض ہے؟ تم جاؤ اور اپنا کام کرو۔مجھے غرض نہیں ہے اس بات سے؟ میں نے اپنے مالک کی بات سنی تو اپنے دل میں سوچا۔میں جس نے اسی ایک لمحے کیلئے اپنی پوری زندگی صرف کر دی تھی۔وہ نبی جس کی ملاقات کی خاطر میں بستی بستی قریہ قریہ گھوما تھا۔میری حالت تو اس مسافر کی سی تھی جو صحرا میں راستہ بھٹک جائے اور جب وہ اپنی زندگی سے مایوس ہو جائے تو اچانک ہی اسے اپنی منزل سامنے دکھائی دینے لگے بلکہ مجھے تو شاید اس سے بھی زیادہ خوشی تھی لیکن ان باتوں کو دنیا دار لوگ کہاں سمجھ سکتے ہیں۔اب تو میری زندگی کا ایک ہی مقصد تھا کہ کسی طرح نبی عربی کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو دیکھوں اور پتہ چلاؤں کہ آیا آپ وہی نبی ہیں جن کی خبر میرے بزرگوں نے مجھے دی تھی۔چنانچہ جو نبی رات ہوئی میں کھانے کی کوئی چیز لے کر قباء میں حضور کی قیامگاہ پر جا پہنچا اور کھانا پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ مجھے پتہ چلا تھا کہ آپ اللہ کے ایک نیک بندے ہیں اور قباء میں مقیم ہیں۔آپ کے ساتھ آپ کے کچھ غریب اور حاجت مند ساتھی بھی ہیں لہذا میں صدقہ کے طور پر یہ کھانا لے کر حاضر ہوا ہوں اگر آپ اسے قبول کر لیں تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آپ سے صدقہ کھاتے ہیں یا نہیں۔اور پھر یہ دیکھ کر میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی کہ حضور اکرم ﷺ نے وہ کھانا اپنے اصحاب کو دے دیا اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں کھایا۔لیکن صلى الله