حضرت سلمان فارسی ؓ — Page 5
8 7 یہ میری زندگی کا ایک اہم موڑ تھا کیونکہ ان بزرگ کے ذریعے سے مجھے ایک عظیم الشان نبی کی آمد کی اطلاع مل گئی تھی اور میں بے چین تھا کہ کسی بھی طرح جلداز جلد سرزمین عرب میں پہنچ جاؤں تا کہ آنے والے نبی سے مل سکوں اور پھر ایک دن میری دلی مراد بر آئی جب مجھے یہ پتہ چلا کہ عرب سے آئے ہوئے " قبیلہ کلب" کے کچھ تاجر عرب کی طرف جا رہے ہیں۔میں اُن تاجروں سے ملا اور اُن سے درخواست کی کہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلیں۔انہوں نے معاوضے کے طور پر مجھ سے میری بھیڑ بکریاں لے لیں اور مجھے اپنے ساتھ لے کر عرب کی طرف روانہ ہو گئے۔جب ہمارا قافلہ وادی القریٰ پہنچا تو میرے ساتھی تاجروں کی نیت میں فتور آ گیا۔وہ مجھ سے میری بھیڑ بکریاں تو لے ہی چکے تھے اب مزید ظلم یہ کیا کہ وادی القریٰ میں انہوں نے مجھے ایک یہودی کے ہاتھ غلام بنا کر فروخت کر دیا اور میں جو اپنی منزل کے قریب پہنچ چکا تھا تاجروں کی بد عہدی کی وجہ سے ایک آزاد شخص سے غلام بنالیا گیا۔“ حضرت سلمان کی داستان حیات کے اس حصے کو سُن کر حاضرین کے دل بھر آئے اور بڑی محبت سے اس عظیم انسان کو دیکھنے لگے جس نے اپنے عیش و آرام کو محض خدا تعالی کی سچی تڑپ میں چھوڑ دیا تھا۔جو ایک آزاد انسان سے غلام بن گیا تھا۔کل جو ایک جاگیردار اور علاقے کے معزز گھرانے کا فرزند تھا آج ایک یہودی کا زرخرید تھا۔سچا عشق اسی کو تو کہتے ہیں۔وقت گویا ٹھہر گیا تھا اور تمام لوگ خود کو ان واقعات کا حصہ سمجھتے ہوئے ہمہ تن گوش تھے اور پھر کچھ توقف کے بعد حضرت سلمان کی آواز نے سکوت کو توڑا۔میں اب وادی القریٰ میں اپنے یہودی مالک کی غلامی میں دن گزار رہا تھا اور گو یہ دن بہت کٹھن تھے لیکن میں اس امید پر یہ دن گزار رہا تھا کہ شاید یہ وہی علاقہ ہو جس کے بارے میں میرے بزرگ نے مجھے بتایا تھا۔وادی القریٰ میں غلامی کے دن گزارتے ہوئے ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ میرے یہودی آقا کا چچازاد بھائی اس سے ملنے کے لئے آیا۔اس نے جب مجھے محنت اور دیانتداری سے کام کرتے دیکھا تو بہت خوش ہوا اور خرید لیا۔یہ شخص میٹر ب کا رہنے والا تھامذ ہباً یہودی تھا اور بنوقریظہ نامی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔یوں میں اپنے نئے آقا کے ساتھ میٹر ب آ گیا وہی بیٹرب جس نے مدينة البنى یا مدینہ بننا تھا۔گوا بھی مجھے اس کے بارے میں حتمی علم تو نہیں تھا لیکن میرے استاد نے مجھے جو نشانیاں بتائی تھیں وہ بہت حد تک میثرب میں پائی جاتی تھیں اسلئے میری امیدیں ایک مرتبہ پھر زندہ ہو گئیں اور میں خدا تعالیٰ کی تقدیر کا انتظار کرتا رہا۔یہ وہی دور تھا جب رسول کریم ﷺ مکہ میں دعویٰ نبوت فرما چکے تھے اور آپکی شدید مخالفت کی جارہی تھی۔مسلمانوں کو تکالیف دی جارہی تھیں اور بالآخر اللہ