حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ

by Other Authors

Page 6 of 16

حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ — Page 6

8 کا خط دے کر بھیجا نیز حضور کے لئے بہت خوبصورت اور قیمتی کپڑے تحفہ بھجوائے۔شہزادہ صاحب کے خاص شاگرد مولوی عبدالرحمن صاحب آپ کے کہنے پر کئی دفعہ قادیان گئے تھے اور خود بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہو چکے تھے۔1900 ء میں آپ آخری بار قادیان گئے۔واپسی پر آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کچھ کتابیں بھی ساتھ لے کر آئے۔بادشاہ کو کسی نے ان کی شکایت کر دی کہ مولوی عبدالرحمن صاحب بغیر اجازت قادیان گئے تھے۔بادشاہ نے ان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اور یہ معاملہ مولویوں کے سپر د کر دیا۔انہوں نے مولوی عبدالرحمن صاحب پر کفر کا فتویٰ لگایا اور قتل کرنے کی رائے دی۔اس پر آپ کو قید کر لیا گیا اور بعد میں قید کے دوران ہی گلے میں کپڑا ڈال کر سانس بند کر کے راہ مولیٰ میں قربان کر دیا گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ جب امیر عبدالرحمن کے بعد اس کا بیٹا حبیب اللہ خاں بادشاہ بنا تو شہزادہ صاحب نے بادشاہ سے حج پر جانے کی اجازت مانگی۔نئے بادشاہ نے جو آپ کا شاگرد بھی تھا خوشی سے اجازت دی اور کئی اونٹ، گھوڑے اور نقد انعام دے کر آپ کو کابل سے روانہ کیا۔شہزادہ صاحب اپنے وطن سے ہوتے ہوئے بنوں کے راستے ہندوستان آئے۔اس سفر میں آپ کے کچھ شاگر د بھی ساتھ تھے۔اٹک کے قریب ایک جگہ پر شہزادہ صاحب کی ایک آدمی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں بات ہوئی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان لیا ہے اور اس بات پر وہ خوش لگتا تھا۔شہزادہ صاحب نے اپنی سواری کا گھوڑا اسے انعام دے دیا۔جب آپ لاہور پہنچے تو معلوم ہوا کہ طاعون کی بیماری پھیلنے اور بعض اور باتوں کی وجہ سے حج پر جانے میں کچھ روکیں پیدا ہو گئی ہیں اس لئے آپ نے لاہور میں ٹھہرنے کی بجائے قادیان جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملنے کا ارادہ کیا۔شہزادہ صاحب لاہور سے بٹالہ آئے اور بٹالہ سے پیدل چل کر قادیان پہنچے۔سب سے پہلے حضرت مولانا حافظ نورالدین صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) ( جو جماعت کے پہلے خلیفہ ہوئے) سے ملے۔ظہر کی نماز کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملے۔آپ خط کے ذریعہ تو پہلے ہی بیعت کر چکے تھے ، حضور کو دیکھتے ہی آپ کے ہاتھ پر بھی بیعت کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے پہلی دفعہ ملنے کا حال لکھا۔آپ لکھتے ہیں: ” جب مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی تو قسم اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ان کو اپنی پیروی اور اپنے دعوی کی تصدیق میں ایسا فنا شدہ پایا جس سے بڑھ کر انسان کے لئے ممکن نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ شہزادہ صاحب سے پوچھا کہ آپ نے کیا دیکھ کر مجھے مانا تو انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے قرآن شریف نے مجھے یہ راستہ دکھایا۔میں نے دیکھا کہ زمانہ کے لوگ مذہب سے دور ہو گئے ہیں اور شرک اور کئی قسم کے گناہ کرتے ہیں اور دوسرے مذہب کے لوگ اسلام پر طرح طرح کے اعتراض کر رہے ہیں اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ خدا کی طرف سے کوئی مجدد آئے۔میں یہی سوچتا رہتا تھا کہ انہی دنوں میں میں نے سنا کہ ایک شخص نے قادیان کی بستی میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میں نے کوشش کر کے آپ کی کچھ کتابیں لیں اور ان کو غور سے پڑھا تو آپ کی ہر بات کو سچا اور قرآن کے مطابق پایا۔اس لئے میں نے آپ کو سچا مان کر قبول کیا ہے۔شہزادہ صاحب ۱۹۰۲ ء میں قادیان آئے اور قریباً ساڑھتے تین ماہ قادیان میں