حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ

by Other Authors

Page 15 of 16

حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ؓ — Page 15

27 26 اپنے برے انجام سے بچ نہ سکے اور اپنے کئے کی سزا پائی۔شہزادہ صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت محبت تھی۔آپ نے ایک قصیدہ فارسی زبان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعریف میں لکھا ہے اس میں آپ حضور کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: 66 آپ کی خوبصورتی کو دیکھ کر فرشتے بھی حیران ہیں اور جنت کے خوبصورت لوگ بھی آپ کے چہرہ کے آگے کچھ چیز نہیں ہیں۔۔۔آپ ہمیشہ کے بادشاہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے دنیا کے امام بن کر آئے ہیں اور آپ نے اپنے کلام کے ذریعہ سے ایسی باتیں بیان کی ہیں جو پہلے چھپی ہوئی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی شہزادہ صاحب سے بہت محبت تھی۔شہزادہ صاحب کی شہادت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خاص طور پر آپ کے متعلق ایک کتاب لکھی اور اس کا نام تذکرۃ الشہادتین“ رکھا جس کا مطلب ہے دو شہادتوں کا ذکر۔اس کتاب میں حضور نے شہزادہ صاحب اور آپ کے شاگرد مولوی عبدالرحمن صاحب کی شہادت کا حال لکھا ہے اور شہزادہ صاحب کی تعریف کرتے ہوئے ان کی خوبیاں بیان کی ہیں۔حضور نے ایک واقعہ بھی لکھا ے کہ اکتو بر ۱۹۰۳ ء کو جب آپ نے یہ کتاب لکھنی شروع کی تو ایسا اتفاق ہوا کہ حضور کو سخت درد گردہ ہوگئی حضور کہتے ہیں کہ میں نے دعا کی کہ یا الہی اس مرحوم کے لئے میں لکھنا چاہتا ہوں تو ساتھ ہی۔۔۔الہام ہوا 66 سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍ رَّحِيمٍ “ اور صبح سے پہلے پہلے آپ تندرست ہو گئے۔واقعہ شہادت کے بعد احمد نور کا بلی شہزادہ صاحب کا ایک بال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس قادیان لائے تو حضور نے وہ بال کھلے منہ کی ایک چھوٹی سی بوتل میں ڈال کر بند کر دیا اور بوتل دھاگہ سے باندھ کر بیت الدعاء کی کھونٹی سے لٹکا دی۔حضور اس کے متعلق فرماتے ہیں: ایک بال ان کا اس جگہ پہنچایا گیا جس سے اب تک خوشبو آتی ہے اور ہمارے بیت الدعاء کے ایک گوشہ میں لڑکا ہوا ہے۔“ شہزادہ صاحب کے متعلق لکھتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: (۔۔۔) مرحوم نے میری جماعت کو ایک نمونہ دیا۔“ ایک اور جگہ آپ نے لکھا ہے: اور جیسا کہ ان کا چہرہ نورانی تھا ایسا ہی ان کا دل مجھے نورانی معلوم ہوتا تھا۔۔۔اور در حقیقت وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتا تھا۔اس کی ایمانی قوت اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ اگر میں اس کو ایک بڑے پہاڑ سے تشبیہ دوں تو میں ڈرتا ہوں کہ میری تشبیہ ناقص ہو۔“ ایک دفعہ آپ کے متعلق حضور علیہ السلام نے فرمایا: عبداللطیف کہنے کوتو مارا گیامگر یقینا سمجھو کہ وہ زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔“