حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 33
66 65 وہ لڑکی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں۔یہ کمزور جان ہے جو ایک کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے۔جو اس بچی کی نگرانی اور پرورش کرے گا قیامت تک خدا کی مدد اس کے شامل حال رہے گی۔اسوۃ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم 462 ، طبرانی) آج کی بچیاں کل کی مائیں آج کل عام لوگ لڑکیوں کی تربیت کی طرف زیادہ دھیان نہیں دیتے۔آج جو لڑکیاں ہیں وہ کل کی مائیں ہیں۔قوم کی آئندہ نسل نے ان ہی کی گود میں پرورش پانی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ان کی بچپن سے ہی ایسی تربیت کی جائے جو انہیں بڑے ہوکر ذمہ داریوں کا بار اٹھانے کے قابل بنادے اور جنت کے حصول کا ضامن بنا دے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اگر تم میں سے کسی کی دو یا تین بیٹیاں یا بہنیں ہوں اور وہ ان کی تربیت اچھے رنگ میں کرے اور ان کے بارے میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت عطا کرے گا۔(ترمذی ابواب البر والصلہ ) یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بچیوں کی پیدائش اور احسن تربیت کو جنت کے حصول کا ضامن بنادیا۔ہر مسلمان لڑکی کے لئے بھی علم حاصل کرنا فرض قرار دیا آپ نے فرمایا:۔طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسلم و مُسلمةٍ یعنی نہ صرف ہر مسلمان لڑکے بلکہ ہر مسلمان لڑکی پر بھی علم حاصل کرنا فرض قرار دے دیا۔تا کہ قوم کا یہ طبقہ کمزور نہ رہ جائے اور تعلیم حاصل کر کے قوم کی ترقی میں ممدومعاون ثابت ہو۔بیٹیوں والے کو تسکی (چالیس جواہر پارے ص 151 حدیث نمبر 39) لڑکیوں میں برکت ہوئی ہے اوس نام کے ایک انصاری حضرت رسول کریم صلی اللہ وسلم کے پاس ایک دفعہ آئے تو آپ نے ان کے چہرے پر کچھ رنج وغم کے آثار دیکھے۔پوچھا کیا بات ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری کئی بیٹیاں ہیں ان کی وجہ سے میرا دل عملین رہتا ہے اور میں تو ان کی موت کی دُعا مانگتا رہتا ہوں۔ہمارے مہربان و مشفق آقا نے فرمایا۔اوس تم یہ دُعا نہ کیا کرو۔دیکھولڑکیوں میں بھی برکت ہوتی ہے۔☆ ☆ ☆ یہ لڑکیاں نعمت کے وقت شکر کرنے والی مصیبت کے وقت تمہاری ہمدردی میں رونے والی اور تمہاری بیماری کے وقت تیمارداری اور خدمت کرنے والی ہوتی ہیں۔ان کا بوجھ زمین پر ہے۔ان کی روزی اللہ کے ذمے ہے۔پھر کیوں تم ناحق رنج کرتے ہو۔( تشخیز مئی 1988ء) بیٹیوں کو پہلے دو بیٹیاں جنہیں بیٹوں سے کمتر سمجھا جاتا تھا اور جن کو اسلام سے پہلے