حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 31 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 31

62 61 پس آپ کے زمانے کے بچوں نے آپ کے اس قول کو خوب خوب نبھایا اور نہ دن دیکھا ، نہ رات ، نہ جان ، نہ مال ، نہ رشتہ دار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر اشارے پر لبیک یا رسول اللہ لبیک یا رسول اللہ کہتے ہوئے سب کچھ ہی قربان کر دیا۔سبحان اللہ کیسا پیارا تھا یہ رسول کیسے پیارے تھے یہ بچے! جن کی مثال دنیا پیش کرنے سے قاصر ہے۔جِسْمِي يَطِيرُ إِليكَ مِنْ شَوقَ على يَا لَيْتَ كَانَتْ قُوةُ الطَّير ان ترجمہ : میرا جسم غالب اور وا فر شوق سے آپ کی طرف اُڑا جاتا ہے اے کاش مجھے اُڑنے کی طاقت حاصل ہو۔عرب کا حاکم اور گلیوں کے بچے ہمارے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے حاکم تھے۔دین و دنیا کے بادشاہ تھے مگر آج۔ہاں آج کون ایسا حاکم ہے یا کون سا ایسا بادشاہ ہے جو گلیوں میں پیدل چلتا ہے۔اور جب وہ کہیں جا رہا ہوتا ہے۔تو مٹی میں کھیلتے ہوئے بچے اس کی ٹانگوں سے لپٹ جاتے ہیں۔ہاں۔۔ہاں یہ وہی ہمارے پیارے آقا ہیں۔دونوں جہانوں کے بادشاہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہ جب وہ بچوں کے پاس سے گزرتے ہیں تو خود ان کو سلام کرتے ہیں۔اُن کے سروں پر پیار سے ہاتھ رکھتے ہیں۔ان کو محبت سے گود میں اُٹھا لیتے ہیں اور جب کوئی پھل یا میوہ آتا ہے تو سب سے پہلے اُس بچے کو دیتے ہیں جو لمسن ہو۔غرض کہ آپ کی شفقت و محبت کے عطر سے ممسوح گلشنِ اسلام کے ننھے پھول رہتی دنیا تک مہکتے رہیں گے اور آپ کے حسن و احسان کے آفتاب سے منور ہوتے رہیں گے۔اللهم صلّ على محمد و على ال محمد و بارک وسلم علیه۔يارب صلی علی نبیک دائماً في هذه الدنيا و بعث ثاني اے میرے رب تو اپنے نبی ﷺ پر ہمیشہ درود و سلام اور رحمتیں نازل فرما اس دنیا میں بھی اور دوسرے جہان میں بھی۔گلشن اسلام کی ننھی کلیوں پر شفقت ہمارے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت محبت صرف ننھے پھولوں تک ہی محدود نہ تھی بلکہ آپ کا وجود مبارک باغ اسلام کی معصوم کلیوں کے لئے بھی سراپا شفقت و محبت تھا۔اور جہاں آپ ان کے جذبات و احساسات کا پورا خیال رکھتے۔وہاں بچیاں بھی آپ سے والہانہ عقیدت رکھتی تھیں۔بچیاں خوشی اور پیار کے گیت گا رہی تھیں پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے والے صرف جوان بوڑھے اور بچے ہی نہ تھے بلکہ کمسن بچیاں بھی تھیں جو ایک خاص شان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق و محبت میں دیدہ و دل فرش راہ کر رہی تھیں اور دف بجا بجا کر خوشی سے استقبالیہ گیت گا رہیں تھیں۔طَلَعِ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَاتِ الْوَدَاع وَجَبَ الشُّكُرُ عَلَيْنَا مَا دَعَالِلَّهِ دَاع لباب الاخبار صفحہ 48، سیرت النبی شبلی جلد اول صفحہ 176) و