حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 24 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 24

48 47 (4 حضرت اسامہ بن زید کی عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت صرف بیس سال تھی۔لیکن یہ بات متفق علیہ ہے کہ آپ کا سینہ اقوال النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خزینہ تھا۔بڑے بڑے صحابہ کو جس بات میں شک ہوتا اس کے لئے آپ کی طرف رجوع کرتے۔حضرت سمرہ بن جندب عہد نبوت میں بالکل صغير السن تھے۔(5 مگر ان کو سینکڑوں حدیثیں یاد تھیں۔لکھا ہے " كان من الحفاظ لمكثرين عن رسول الله سلم یعنی آپ حدیث کے حافظ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کثیر روایت کرنے والے تھے۔(استیعاب جلد 2 صفحہ 579) صحابہ کرام کو دینی علم کے علاوہ دنیوی علوم کی طرف بھی خاص توجہ تھی۔غلاموں کے ساتھ ان کی مادری زبان میں گفتگو حضرت عبداللہ بن زبیر کی عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں گو صرف سات، آٹھ سال کی تھی تاہم بڑے ہوئے تو دینی علوم میں نہایت بلند پایہ رکھنے کے علاوہ دنیوی علوم کے بھی ماہر تھے۔ان کے پاس مختلف ممالک کے غلام تھے۔اور سب کے ساتھ اُن کی مادری زبان میں گفتگو کیا کرتے تھے۔اس زمانے میں حصول علم کی راہ میں جو مشکلات تھیں۔ان کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر اس بات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوسکتا ہے کہ صحابہ کرام تحصیل علم کے لئے کس قدر محنت کرتے تھے۔(مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ 549) حضرت حسن کا علمی پایه آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت حضرت حسنؓ کی عمر صرف آٹھ نو سال تھی۔لیکن باوجود اس کے آپ نے علمی لحاظ سے اسقدر ترقی کی تھی کہ بعد کے زمانے میں۔مدینہ میں جو جماعت علم افتاء کی تربیت کے لئے مقرر ہوئی آپ اس کے ایک رکن تھے۔(اعلام المومنین جلد 1ص2) بچوں کا جذبہ اخلاص و فدائیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اخلاص و فدائیت میں بھی مسلمان بچے کسی طرح صحابہ سے کم نہ تھے۔حضرت انس آٹھ دس سال کی عمر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت پر مامور ہوئے تھے لیکن اس کمسنی کے باوجود آپ پر دیوانہ دار فدا تھے اور نہایت محبت اور اخلاص کے ساتھ اپنے فرائض کو ادا کرتے تھے۔حتی کہ نماز فجر سے قبل اُٹھ کر مسجد نبوی میں پہنچتے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے سے پہلے ہی پانی وغیرہ کا خاطر خواہ انتظام کر کے حاضر رہتے۔(سیر انصار جلد 1 صفحہ 127) بچہ منبر کے لئے لکڑی کاٹ کر لے آیا ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ستون کے سہارے کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔تو ایک دن آپ نے منبر کا خیال ظاہر کیا تو ایک کمسن صحابی سہیل اُٹھے اور منبر کے لئے جنگل سے لکڑی کاٹ کر لے آئے۔بچوں کی عبادت اور پاکبازی رات بھر نماز پڑھتے رہتے (مسند احمد جلد 5) صحابہ کی طرح مسلمان بچے بھی عبادت اور پاکبازی اور تقویٰ میں