حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 43 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 43

86 85 تربیت پر بُرا اثر پڑتا ہے اور وہ اخلاقی طور پر تباہ ہو جاتے ہیں۔نیز فرمایا جنگ کے دوران بھی عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کیا جائے۔(مسلم) بچے ایمان سے محروم نہ رہ جائیں نیز روایت ہے کہ جب طائف کے اوباش لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مار مار کر لہو لہان کر دیا تو پہاڑوں کا فرشتہ آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا اگر آپ حکم دیں تو میں یہ پہاڑیاں ان ظالموں کے اوپر گرا کر ان سب کو ہلاک کردوں۔تو ہمارے مشفق و مهربان آقا نے فرمایا نہیں! نہیں! اگر یہ تباہ ہو گئے تو کل ان کے بچے بھی دولت ایمان سے محروم رہ جائیں گے۔( بخاری بدء الخلق جز ثانی مصری 140) بچوں کے حقوق والدین پر۔ننھے پھولوں کی نگہداشت کے متعلق ارشادات عالیہ -1 رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔حَقُّ الْوَلَدِ عَلَى وَالِدِهِ أَنْ يُحْسِنَ اسْمَهُ وَ يُحْسِنُ مُرْضِعَه وَيُحْسِنُ أَدَبَه یعنی بیٹے کا حق اس کے باپ کے ذمے یہ ہے کہ وہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کا عمدہ ٹھکانا بنائے اور اسے پسندیدہ آداب سکھائے۔بچوں کو کبھی بھی بُرے ناموں سے نہیں پکارنا چاہئے بلکہ اچھے ناموں سے پکارنا چاہیے اس سے ان کے کردار پر اچھا اثر پڑتا ہے۔پھر آپ نے فرمایا : ” اپنے بچوں کو ادب سکھاؤ کیونکہ تمہارا یہ -2 فعل روزانہ ایک صاع صدقہ کرنے کے برابر ہے۔-3 پھر آپ نے فرمایا: باپ اپنے بیٹے کو آداب سکھانے سے بہتر کوئی چیز نہیں دیتا۔دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ آج کل اس بات کو چھوڑ کر دنیا کمانے کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔اُن کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے بچوں کے لئے کوٹھیاں بنائیں، مربعے خریدیں ، کارخانے لگائیں یا بچوں کو انجینئر یا ڈاکٹر بنائیں اور وہ اس فکر سے بے نیاز ہوتے ہیں کہ اُن کے بچے نیک ہوں با اخلاق ہوں با ادب شہری اور معاشرے کے لئے اچھے شہری ہوں ایسے والدین کو فکر کرنی چاہئے اور اپنی اولاد کی تربیت سے غافل نہیں رہنا چاہئے بلکہ شروع سے ہی اچھے رنگ میں تربیت کرنی چاہئے۔بچہ تو فطرتِ صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے مَا مِن مَوْلُودٍ إِلَّا يُوْ لَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَابَوهُ يُهَوِ دَانِهِ أَوْ يُنَصِرَانِهِ أَوْ يُمَحِسَنِهِ (مسلم کتاب القدر) یعنی ہر بچہ فطرت اسلام ( یعنی فطرتِ صحیحہ ) پر پیدا ہوتا ہے مگر اس کے والدین ہی اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔اس حدیث سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ جب بچہ بڑا ہوتا ہے تو والدین اُسے بپتسمہ دے کے یہودی ، عیسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔بلکہ مراد یہ ہے کہ بچہ سب سے پہلے والدین سے ہی سیکھتا ہے اور والدین اس کے سامنے جو عملی نمونہ پیش کرتے ہیں وہ اس کی نقل کرتا ہے اگر والدین حتی المقدر اپنی اولاد کو احسن رنگ میں تربیت دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کی اولاد صالح نہ بنے۔بچوں میں تین خوبیاں ضرور پیدا کرو فرمایا اذِبُو أَوْلَا دَكُمْ عَلَى ثَلاثَ خِصَالِ حُبِّ نَبِيكُمْ وَحُبِّ