حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 32 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 32

64 63 ثنیات الوداع (ایک گھائی کا نام ہے) سے ہم پر چاند طلوع ہوا ہے اور ہم پر خدا کا شکر اس وقت تک واجب ہے جب تک کوئی خدا کی طرف بلانے والا بُلاتا ہے۔پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ محبت بھرا نظارا دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بچیوں سے پوچھا کیا تم مجھ سے پیار کرتی ہو؟ انہوں نے کہا جی رسول اللہ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں بھی تم سے پیار کرتا ہوں۔اس پر تو مسلمان بچیاں جتنا بھی فخر کریں کم ہے (الفضل سیرت النبی نمبر 1983 صفحہ 11، سیرت النبی نمبر 1984 صفحہ 17) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بیٹی سے پیار اور احترام حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سفر پر تشریف لے جاتے تو سب سے آخر میں اپنی بیٹی حضرت فاطمہ سے مل کر جاتے اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ان کے گھر جاکر ملتے۔(مشكوة كتاب اللباس) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بے حد پیار تھا۔حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب بھی اپنے والد حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ملنے آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم احتراماً اُٹھ کر بیٹی کا استقبال کرتے۔انہیں خوش آمدید کہتے اور ان کی پیشانی پر بوسہ دیتے۔اُن کے بیٹھنے کے لئے اپنی چادر بچھا دیتے۔کیا ہی خوبصورت کپڑا ہے (ابو داؤد کتاب الادبباب جی القیام) حضرت ام خالد روایت کرتی ہیں کہ میں بچی تھی کہ اپنے والد کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے زرد رنگ کی قمیض پہن رکھی تھی تو آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا ” کیا ہی خوبصورت کپڑا ہے“ ( بخاری کتاب اللباس) ماں نے کھجور کاٹ کر آدھی آدھی دونوں بچیوں کو دے دی ایک بار حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ایک عورت کچھ طلب کرنے کے لئے آئی۔اس کے ساتھ دو بچیاں بھی تھیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس اس وقت صرف ایک کھجور ہی تھی۔وہی اُنہوں نے اس کو دے دی۔اس عورت نے کھجور کے دوٹکڑے کئے اور دونوں بچیوں کو آدھی آدھی دے دی۔اور خود نہ کھائی۔جب حضرت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ماں کی بچیوں سے محبت اور ایثار کا واقعہ سُنا دیا۔تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مَنْ بُـلـى مِـنْ هذه البنات شيئاً فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ تكن لَهُ سِترة مِنَ النَّارِ - ( بخاری کتاب الاداب ، حدیث نمبر 933) عائشہ جو شخص بھی لڑکیوں کی پیدائش کے ذریعے آزمایا جائے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کر کے آزمائش میں کامیاب ہو تو یہ لڑکیاں اس کے لئے قیامت کے روز جہنم کی آگ سے ڈھال بن جائیں گی۔لڑکی کی پیدائش پر فرشتے آکر کہتے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو حدیث شریف میں ہے کہ جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو خدا اس کے ہاں فرشتے بھیجتا ہے جو آکر کہتے ہیں اے گھر والو! تم پر سلامتی ہو۔