حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 25
50 49 بہت بڑھے ہوئے تھے۔حضرت شداد بن اوس کمسنی میں اسلام لائے تھے مگر نہایت عابد زاہد تھے۔رات کو دیر تک عبادت میں مصروف رہتے تھے۔بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ لیٹتے تو پھر خیال آجاتا کہ میں نے خدا کی عبادت کا حق ادا نہیں کیا۔اس وجہ سے فوراً اُٹھ بیٹھتے اور عبادت میں مصروف ہو جاتے حتی کہ بعض اوقات رات رات بھر نماز پڑھتے اور عبادت میں (اسد الغابہ جلد 2 صفحہ 318) مصروف رہتے۔سجاد لقب پڑ گیا تھا حضرت ابو طلحہ نے بالکل نوعمری میں اسلام قبول کیا تھا۔لیکن عبادت کے ذریعہ تقویٰ میں وہ بلند مقام حاصل کر لیا تھا کہ بڑے بڑے صحابہ ان سے دُعائیں کراتے تھے اور سجاد لقب پڑ گیا تھا۔(مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ 214) عابد زاہد بچہ حضرت علیؓ کی عمر قبول اسلام کے وقت بہت چھوٹی تھی لیکن آپ نہایت عابد زاہد تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ كَانَ مَا عَلِمُتُ صَائماً قَوْماً ـ کہ جہاں تک مجھے علم ہے۔حضرت علی بہت روزہ ( ترمذی کتاب المناقب) دار اور عبادت گزار تھے۔چڑیاں آ آکر پیٹھ پر بیٹھ جائیں حضرت عبداللہ بن زبیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہت کمسن تھے تاہم حد درجہ عبادت گزار تھے۔نماز اس قدر استغراق سے پڑھتے تھے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا ایک بے جان ستون کھڑا ہے رکوع اتنا لمبا کرتے کہ اتنے عرصہ میں سورہ بقرہ ختم کی جاسکے۔اور سجدے میں گرتے تو اس قدر محویت طاری ہوتی تھی کہ چڑیاں آآکر پیٹھ پر بیٹھ جاتی تھیں۔لوگ سمجھتے بھول گئے ہیں (ابن اثیر جلد 4 صفحہ 292 ) حضرت انس کے متعلق آتا ہے کہ آپ قیام و سجدہ کو اس قدر لمبا کرتے تھے کہ لوگ سمجھتے تھے کہ بھول گئے ہیں۔( یہ ان کی اکیلی نماز کے متعلق ہے ) (مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے صفحہ 176 ) بچے کی دینی امور میں رازداری حضرت انس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے اور باوجود اس کے کہ آپ کی عمر آٹھ دس سال تھی۔آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کاموں میں انتہائی رازداری سے کام لیتے تھے۔ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے فارغ ہوکر گھر کو روانہ ہوئے۔راستے میں بچے کھیل رہے تھے چنانچہ آپ بھی یہ تقاضائے عمر کھیل دیکھنے میں مشغول ہو گئے کہ اتنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔لڑکوں نے انہیں بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں۔حضور جب قریب پہنچے تو حضرت انس کا ہاتھ پکڑ کر ان کو علیحدہ لے گئے اور ان کے کان میں کچھ ارشاد فرمایا جسے سُن کر حضرت انس وہاں سے چلے گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے انتظار میں وہیں تشریف فرما رہے۔حضرت انس فارغ ہوکر واپس آئے اور حضور کو جواب سے آگاہ فرمایا۔جسے سُن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور حضرت انس گھر چلے گئے۔اور اس غیر معمولی کام کی وجہ سے چونکہ گھر آنے میں معمول سے تاخیر ہو گئی تھی والدہ نے تاخیر کی وجہ پوچھی تو حضرت انسؓ نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے