حضرت رسول کریم ؐ اور بچے

by Other Authors

Page 38 of 54

حضرت رسول کریم ؐ اور بچے — Page 38

76 75 وَ اجْنُبُنِي وَ بَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنَام (ابرهيم : 36) کہ اے میرے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی اور شرک سے بچا اور فرمانبردار لوگ پیدا ہوتے رہیں۔نماز کی پابندی کی توفیق پھر یہ دُعا بھی کرتے رہنا چاہیئے۔رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي (ابراہیم : 41) اے میرے رب مجھے اور میری اولاد کو نماز کی باقاعدہ پابندی کی توفیق عطا فرماتا رہ۔نسل اور قومی زندگی کی دعا پھر فرمایا! ( پیارے رسول کی پیاری باتیں 93) وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ امْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُ قُهُم وَإِيَّاكُم ط (بنی اسرائیل : 32) کہ غربت اور افلاس کے ڈر سے اولاد کو قتل نہ کرو۔تمہیں بھی تو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دے سکتے ہیں اور دیتے بھی ہیں۔ان الفاظ کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ اگر تم اولاد کی عمدہ تربیت اور اعلیٰ تعلیم کا خیال نہیں رکھو گے تو تم انہیں قتل کرنے والے ٹھہرو گے اور اگر کوئی قوم دیر تک زندہ رہنا چاہتی ہے تو وہ آئندہ نسل کی اچھی تربیت کے نتیجہ میں ہمیشہ زندہ رہ سکتی ہے۔نیز ہم سب کو یہ دُعا ہمیشہ پڑہتے رہنا چاہئیے۔کو رَبِّ زِدْنِي عِلْماً (115:') ترجمہ:۔اے ہمارے رب ہمیں زیادہ سے زیادہ علم عطا فرما اور اسے ہمیشہ بڑھاتا رہ۔آمین ہمارے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی جن زیادہ علم کسی کو نہیں دیا گیا ہمیشہ یہ دُعا مانگا کرتے تھے۔نیک اولاد کی خاطر نیک بیوی کا انتخاب کرو (اللہ کی باتیں صفحہ 27) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تُنْكَحُ الْمَرَاءَ قُلَارُ بَعِ لِمَا لِها وَ لِحَسْبِهَا وَ لِجَمالِها ولدينها فَاظُفُرُ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ (بخاری کتاب النکاح باب الاكفاء فی الدین) کسی عورت سے نکاح کرنے کی چار ہی بنیادیں ہوسکتی ہیں۔-1 -2 -3 -4 اس کے مال کی وجہ سے اس کے خاندان کی وجہ سے اس کے حُسن جمال کی وجہ سے اس کی دینداری کی وجہ سے سو اے مرد تو دیندار اور بااخلاق عورت کے انتخاب کو ہمیشہ مقدم رکھ ورنہ تیرے ہاتھ ہمیشہ خاک آلود رہیں گے۔عظیم الشان دائمی نعمت پس نہ صرف خانگی خوشی کے لحاظ سے بلکہ آئندہ نسل کی حفاظت کے لحاظ سے اور ترقی کے لحاظ سے بھی نیک اور با اخلاق بیوی عظیم الشان نعمت ہے کہ دُنیا کی کوئی نعمت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔اس لئے ہمارے پیارے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔دنیا تو سامانِ زیست ہے اور نیک عورت سے بڑھ کر کوئی سامان