حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ

by Other Authors

Page 3 of 19

حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ — Page 3

3 2 نہایت بلند قد و قامت بزرگ تھے۔جناب عبد الرحمن شاکر صاحب نے مجھے بتایا کہ پیر صاحب سخت زندگی گزارنے کی عادت پڑے۔آپ کے والد صاحب آپ کو بعض اوقات گرم کپڑے بھی ہماری جماعت میں نہایت لمبے قد والے انسان تھے اور کسی شخص کا قد ہماری جماعت میں اس قدر بنا کر نہ دیتے تا کہ آپ کے اندر برداشت کی طاقت پیدا ہو سکے۔نہ تھا۔یہی حالت آپ کے پاؤں کی تھی۔چنانچہ مولوی محمد صادق صاحب (مربی) سماٹرا نے مجھے بتایا کہ حضرت پیر صاحب جس قدر لمبے قد کے مالک تھے اس مناسبت سے اپنے سر پر لمبی ترکی ٹوپی بھی پہنا کرتے تھے۔“ نام تعلیم حضرت پیر صاحب کی ابتدائی تعلیم کے بارے میں تو کسی کو زیادہ علم نہیں ہے لیکن آپ کے گھر کے ماحول سے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گھر سے ہی روایات بحوالہ مقالہ مکرم عزیز الرحمن خالد صاحب مربی سلسلہ 1969ء) حاصل کی کیونکہ آپکے گھر میں تعلیمی لحاظ سے کسی چیز کی کمی نہ تھی والد صاحب بہت نیک اور پڑھے لکھے انسان تھے اس لئے یہ لگتا ہے کہ ابتداء میں تو آپ زیادہ تر اپنے والد صاحب کے حضرت پیر صاحب کی پیدائش پر آپ کے والد صاحب نے آپ کا نام نصیر الدین رکھا تھا زیر تربیت رہے لیکن بعد میں خود ہی محنت کر کے علم حاصل کرتے رہے۔قرآن مجید کا ترجمہ لیکن بعد میں بدل کر سراج الحق رکھ دیا۔حضرت پیر صاحب فرماتے ہیں۔بچپن ”میرا نام بھی میرے والد نے نصیر الدین رکھا تھا پھر سراج الحق رکھ دیا۔“ ، فارسی اور دیگر چھوٹی موٹی کتابیں بقول آپ کے آپ خود ہی پڑھ لیا کرتے تھے صرف عربی کے بارے میں پتا چلتا ہے کہ آپ نے ایک استاد سے پڑھی جس پر آپ کے مرید آپ سے ( تذکرۃ المہدی صفحہ 172) ناراض ہو گئے کیونکہ آپ پیر تھے اور مرید یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ پیروں کا کوئی استاد ہو۔لیکن اصل تعلیم تو بقول آپ کے آپ کو بیعت کرنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت حضرت پیر صاحب بچپن میں دوسرے تمام بچوں سے بالکل مختلف تھے۔آپ کو بچپن سے میں رہ کر حاصل ہوئی جس کی بدولت آپ نے مخالفوں کے اعتراضات کے منہ توڑ جوابات ہی قرآن مجید پڑھنے کا شوق تھا۔آپ روزانہ ایک منزل ( یعنی تقریباً چار پارے ) کی تلاوت کیا دیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیر صاحب کوکئی دفعہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مولانا نور کرتے تھے اور ہر وقت عبادات میں مصروف رہتے۔الدین صاحب خلیفہ امسیح الاول کے دروس القرآن میں شرکت کیا کریں اور ان سے تفسیر حضرت پیر صاحب کو بچپن سے ہی سخت زندگی گزارنے کی عادت ڈالی گئی تھی اور اس میں القرآن سنیں اور سیکھیں۔چنانچہ قرآن مجید کا علم آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اللہ تعالی کی خاص مرضی شامل تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پیارے بندے حضرت مسیح خلیفہ اسی الاول سے ہی آیا۔موعود علیہ السلام کی تائید و نصرت کے لئے کھڑا کرنا تھا اور اسی حکمت کے تحت اللہ تعالیٰ نے ایسے حضرت پیر صاحب کی یہ ایک سعادت عظمی ہے کہ آپ کے ایک استاد تو حضرت مسیح مہدی انتظامات فرمائے تا کہ بعد میں آپ کے لئے مشکل نہ ہو۔چنانچہ بچپن میں ہی آپ کے والد آپ موعود علیہ السلام تھے اور دوسرے حضرت خلیفتہ اسی الاول تھے۔جس شخص کو محض اللہ تعالیٰ کے فضل کو ریاضت و عبادت کے لئے جنگلوں میں لے جایا کرتے تھے تا آپ کو آرام کی زندگی کی بجائے سے اس قدر با برکت اساتذہ سے فیض پانے کی توفیق ملی ہو اس کا علمی معیار کیسے نہ بلند ہو۔