حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ

by Other Authors

Page 18 of 19

حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ — Page 18

33 32 تھے اور بات چیت کرتے وقت یا وعظ کے وقت کبھی آپ کا عضوحرکت نہ کرتا تھا۔نہ آنکھ نہ رخسار کا دودھ ہمیں بھی لے دو۔سبحان اللہ امام ہو تو ایسا ہو۔کیسا شفیق ورفیق اور کیسا رحیم و کریم انسان نہ ہاتھ۔جیسے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ باتیں کرتے وقت ہاتھوں سے آنکھوں سے چہروں کہ آپ بھی ہماری اپنی شفقت سے ہمراہ رہنا چاہتے ہیں۔سے حرکت کیا کرتے ہیں اور جسم کی بوٹی بوٹی پھڑ کا کرتی ہے اور جو اس طرح سے بات کرتا آپ نا پسند کیا کرتے تھے۔مولوی عبد اللہ مجتہد لودھیانوی پر خدا تعالیٰ کی رحمت نازل ہو وہ کہا کرتے تھے کہ تم صاحبزادہ صاحب غور کر کے دیکھنا اور میں نے تو خوب غور کیا ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام باتیں کرتے ہیں اور ہنستے ہنساتے ہیں اور باتیں لوگوں کی سنتے ہیں اور لوگوں میں بیٹھتے 66 (الحکم قادیان 30 اپریل 1902 ء صفحہ 10) حضرت پیر سراج الحق نعمانی جمالی کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ حضرت پیر صاحب کو ہیں لیکن آپ کے چہرہ اور بشرہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کسی کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ نے ساری زندگی اس بات کی توفیق عطا فرمائی کے آپ نیکیوں اور اعمال صالحہ میں آگے آیا اور کھڑے ہوئے۔گویا جیسے کسی عاشق کو اپنے معشوق کا انتظار ہوتا ہے۔سو واقعہ میں یہی سے آگے بڑھتے رہیں۔حالت حضرت اقدس علیہ السلام کی دیکھی کہ حضرت رب العزت سے وہ لو لگ رہی تھی اور آپ آپ کی راہ میں کئی قسم کی مشکلات آئیں۔آپ کی پیری مریدی جاتی رہی ، مریدوں نے ذات باری تعالیٰ میں ایسے محو و متفرق معلوم ہوتے تھے کہ کسی چیز کی کوئی پرواہ نہیں تھی اور ذات منہ موڑ لیا۔آپ کے رشتہ داروں نے قطع تعلق کر لیا۔یہاں تک کہ آپ کے بھائی نے بھی ( تذكرة المهدی صفحہ 178) جائیداد دینے سے انکار کر دیا اور آپ نے اپنی ساری جائیداد جو کہ 18 گاؤں اور 5 آموں کے باغات پر مشتمل تھی روایت از صاحبزادی صاحبہ حضرت پیر صاحب) کی کوئی پرواہ نہ کی اور جب بھائی احدیت میں فنا ہیں۔66 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دودھ خریدنا نے کا غذات پر دستخط لینے چاہے تو آپ نے بے چون و چرا دستخط کر دیے لیکن اپنے ایمان کا سودا ایک روز حضرت اقدس علیہ السلام سیر کے لئے تشریف لے گئے۔جب واپس تشریف نہ کیا۔آپ کے دوست آپ سے ناراض ہو گئے لیکن آپ نے کوئی فکر نہ کی۔آپ کا بیٹا جس سے لائے تو بکریوں سے میدان بھر پور تھا اور دودھ اس قد رفروخت ہوتا تھا کہ لوگ ایک دوسرے پر آپ کو بہت محبت تھی جب فوت ہوا تو آپ کے منہ سے کوئی ناشکری کا کلمہ نہ نکلا بلکہ اللہ تعالیٰ پر گرے پڑتے تھے اور وہ خریداری میں اس قدر مصروف و مستغرق تھے کہ حضرت علیہ السلام کی بھروسہ کیا۔آپ کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا اور قادیان میں آکر کئی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔پھر تشریف آوری کی بھی کسی کو خبر نہ ہوئی۔ادھر تو حضرت کے ساتھ پچاس ساٹھ آدمی ادھر خریدار جمع آخری ایام میں جب آپ کو ہاتھ ملانے سے بھی درد ہوتا تھا تب بھی آپ خدمات دینیہ میں ہوکر عجیب وغریب نظارہ پیدا ہوا۔حضرت کو بھی آگے چلنے کی جگہ نہ ملی۔فرمایا یہ کیا ہے میں نے اور مصروف عمل رہے۔ایک اور بھائی نے عرض کیا کہ حضرت بکریاں آئی ہیں ہمارے بھائی سب دودھ خرید رہے ہیں۔اتنا صبر اور حوصلہ آپ کو کہاں سے ملا۔آپ بھی دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان فرمایا ہاں خرید و اور ہمیں خریداری میں ساتھ ملالو کہ ہم بھی تمہارے شریک ہو جاویں۔اچھا دو پیسے تھے۔دراصل یہ ساری برکات امام الزماں کی معیت کی بدولت تھیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچپن