حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ — Page 17
31 30 کے وظائف کیا کرتے تھے لیکن آپ کو اطمینان نصیب نہ ہوتا تھا۔بیعت کرنے کے بعد آپ نے فرماتے ہیں۔فرمایا کہ حدیث شریف میں آیا ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ پابر ہند (ننگے پاؤں) حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ کوئی وظیفہ وغیرہ ارشاد فر ما ئیں۔چنانچہ حضرت مسیح شخص خدا کو دیکھ لیتا ہے۔موعود علیہ السلام نے صاحبزادہ صاحب کی نیک طبیعت کو دیکھتے ہوئے آپ کو چند وظائف کرنے کا ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا: حضرت پیر صاحب نے جب حضور اقدس علیہ السلام کی یہ بات سنی تو آپ نے بھی یہ فیصلہ کر لیا کہ جو تا نہیں پہنیں گے۔چنانچہ جب آپ کو ایک سال ننگے پاؤں رہتے گزر گیا تو ایک روز آپ صبح اب تم بعد نماز کے دس بار درود شریف اور دس با اسْتَغْفِرُ اللَّهِ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَّ کی نماز سے پہلے درود شریف پڑھ رہے تھے کہ دو شخص خوبصورت جوان موٹے تازے لمبے قد کے اتُوبُ إِلَيْهِ اور اکتیس بار لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِیمِ پڑھا کرو اور جوکسی وقت سفید کپڑے پہنے ہوئے آئے اور آپ کو ایک ایسی جگہ لے گئے جو بہت خوبصورت تھی اور روشنی ہی اکتیس مرتبہ لاحول نہ ہو سکے تو اکیس بار اور جو اکیس بار نہ ہو سکے تو گیارہ بار ضرور پڑھ لینا۔روشنی تھی۔آپ کے دل میں یہ خیال آیا کے یہ اللہ تعالیٰ کا نور ہے۔آپ اور وہ دونوں فرشتے وہاں اسی طرح فرمایا کہ جتنی دیر وظیفہ میں لگے وہ نماز میں خرچ کرونماز میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ کھڑے رہے اور اندر سے آواز آئی کہ کہو أَشْهَدُ اَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللہ میں نے کہا أَشْهَدُ اَنْ لَّا اللَّهُ الْمُسْتَقِيمَ بکثرت پڑھو اور رکوع اور سجدے میں بعد تسبيح يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيْتُ إِلَّا الله پھر فرمایا تو حید کو میری قائم کرو تو حید مجھے محبوب ہے۔زیادہ پڑھو اور اپنی زبان میں نماز کے اندر دعائیں کرو۔اسی طرح نماز میں حضور قلب حاصل کرنے کے لئے بھی پیر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا اور آپ علیہ السلام نے پیر صاحب کو نماز میں حضور قلب کا طریقہ ارشاد روایات فرمایا کہ (تذکرة المهدی صفحہ 289) حضرت صاحبزادہ سراج الحق نعمانی صاحب سے بعض بہت دلچسپ روایات ملتی ہیں۔جس قدر دیر لگے اتنی دیر نماز میں لگاؤ اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ زیادہ پڑھو اور حضرت اقدس کی بعض صفات کا بیان اس قدر پڑھو کہ ہاتھ پیر اور تمام بدن دکھ جاوے۔“ اللہ تعالیٰ سے محبت 66 ( تذكرة المهدی صفحه 150 ) حضرت صاحبزادہ صاحب بیان فرماتے ہیں: حضرت اقدس علیہ السلام سے جو عرض کرتا کہ میں نے نظم لکھی ہے وہ سنانی چاہتا ہوں، حضرت پیر صاحب ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی طلب خواہ وہ پنجابی زبان میں ہو خواہ فارسی میں خواہ عربی میں، آپ علیہ السلام بے تکلف فرماتے کہ اچھا میں لگے رہتے تھے۔اس کا کچھ حد تک اندازہ تو اوپر کے بیان سے بھی ہوتا ہے لیکن ذیل میں سناؤ اور آپ شوق سے سنتے خواہ وہ کیسی ژولیدہ طور ( بے ترتیب) سے ہوتی۔کسی کا دل نہیں ایک ایسا واقعہ درج کیا جاتا ہے جو اپنی ذات میں نہایت حیرت انگیز ہے اور حضرت پیر صاحب توڑتے اور جزاک اللہ فرماتے۔لیکن میں نے خوب غور سے دیکھا کہ آپ کے جسم یا کسی عضو کو کی قوت ارادی کی پختگی پر دلالت کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے غزل ، قصیدہ نظم سننے کے وقت کسی قسم کی حرکت نہ ہوتی تھی اور آپ چپ چاپ بیٹھے سنا کرتے