حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ

by Other Authors

Page 11 of 19

حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ — Page 11

19 18 بعض دفعہ حضور اقدس علیہ السلام کو تحفے بھی پیش کئے اور حضور اقدس علیہ السلام نے بہت پسند فرمایا۔چنانچہ حضور اقدس علیہ السلام اپنے ایک خط میں اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: مکرمی مخدومی اخویم ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامه نیز یک دستار ہدیہ آں مخدوم پہنچا۔حقیقت میں یہ عمامہ نہایت عمدہ خوبصورت ہے جو آپ کی دلی محبت کا جوش اس سے مترشح ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے۔( آمین ) اور اب یہ عاجز شاید ہفتہ عشرہ تک اس جگہ ٹھہرے گا زیادہ نہیں۔والسلام۔خاکسار غلام احمد عفی عنہ، از ہوشیار پور 9 مارچ 1886ء مکتوبات احمد جلد 5 مکتوب نمبر 5 صفحہ 85) حضرت پیر صاحب نے حضور علیہ السلام سے اپنی محبت کا اظہار شعروں کی صورت میں کا بھی کیا ہے اور آپ بعض دفعہ حضور اقدس علیہ السلام کو نظم بھی سنایا کرتے تھے۔حضور اقدس علیہ السلام کو حضرت پیر صاحب کی آواز بہت پسند تھی۔چنانچہ آپ بیان فرماتے ہیں: حضرت اقدس علیہ السلام بھی کبھی بیمار ہو جاتے تھے یا لکھتے لکھتے تھک جاتے تو فرماتے کہ صاحبزادہ صاحب کو بلاؤ ان سے کوئی غزل سنیں گے اور میں سنا دیتا تو آپ کو تکلیف میں تسکین ہو جاتی۔ایک روز فرمانے لگے کہ صاحبزادہ صاحب کوئی غزل سناؤ کہ تمہاری آواز بہت پیاری معلوم ہوتی ہے۔۔ایک روز جہاں چھاپہ خانہ ضیاء الاسلام ہے وہاں رہتا تھا اور میرے گھر کے آدمی سرسادہ گئے ہوئے تھے۔صرف میں اکیلا تھا۔حضرت اقدس علیہ السلام کے سر میں درد شدت سے تھا، وہاں حضرت اقدس علیہ السلام میرے پاس آکر لیٹ گئے اور فرمایا ہماری پنڈلیاں دباؤ۔میں دبانے لگا۔پھر فرمایا صاحب زادہ صاحب کوئی غزل پڑھو۔میں نے یہ غزل نظیر کی خوش الحانی سے سنائی: غزل کیا کہیں دنیا میں ہم انسان یا حیوان تھے خاک تھے کیا تھے غرض اک آن کے مہمان تھے غیر کی چیزیں دبا رکھنی بڑی سمجھے تھے عقل چھین لی جب اس نے تب جانا کہ ہم نادان تھے ایک دن ایک استخواں پر پڑ گیا جو میرا پیر کیا کہوں اس دم مجھے غفلت میں کیا کیا دھیان تھے پیر پڑتے ہی غرض اس استخواں نے آہ کی اور کہا ہم بھی کبھی دنیا میں صاحب جان تھے ست و پا کام و زباں گردن شکم پشت و کمر دیکھنے کو آنکھیں اور سننے کی خاطر کان تھے رات کے سونے کو کیا کیا نرم و نازک تھے پلنگ بیٹھنے کو دن کے کیا کیا تخت اور ایوان تھے لگ رہے تھے دل کئی چنچل پری زادوں کے ساتھ کچھ نکالی تھی ہوس کچھ اور بھی ارمان تھے ایک ہی تھپڑ اجل نے آن کر ایسا دیا پھر نہ ہم تھے اور نہ وہ سب عیش کے سامان تھے ایسی بیدردی سے مجھ پر پاؤں مت رکھو نظیر او میاں ہم بھی کبھی تیری طرح انسان تھے ( تذكرة المهدی صفحہ 176-175)